السلام علیکم جناب عالی!
جناب چند مسئلے ہیں ، جس کے بارے میں مجھے آپ سے فتویٰ چاہیے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ’’بعض افراد سورۃ الأحزاب کی آیت نمبر۴۵ کو وجہ بناتے ہوئےسرور عالم ﷺ کو حاضرناظر مانتے ہیں،اس میں کتنی صداقت ہیں؟
۲۔ طلاق کا صحیح مسئلہ بیان کیجیے اور کیا نشہ اور غصہ کی حالت میں طلاق ہو جاتی ہے۔ ایک ساتھ تین بار طلاق دینا درست ہے یا نہیں؟ اور طلاق دینا کا وقفہ کتنا ہونا چاہیے؟ نیز طلاق دیتے وقت بیوی کا سننا ضروری ہے کیا؟ قرآن وسنت کی روشنی میں وضاحت کیجیےگا۔
واضح ہو کہ سورۃ ا لأحزاب کی آیت نمبر۴۵ میں لفظ ’’شاھد‘‘ بمعنی نگران اور رقیب کے ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ رب العزت کا نبی تم پر نگران ہے کہ تم دین سے ہٹنے نہ پاؤ اور دین میں تحریف نہ ہو، یہی وجہ ہے کہ جب تک آپﷺ تھے تو دین میں تحریف نہیں ہوئی۔( تحفۃ المناظر)
تفصیل کےلیے ملاحظہ ہو ’’تبرید النواظر‘‘ یعنی ’’آنکھوں کی ٹھنڈک‘‘ مؤلفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا سرافراز خان صفدر صاحبؒ۔
۲۔ نشہ اور غصّہ کی حالت میں بھی شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے۔
۳۔ قرآن وسنت کی روشنی میں تین طلاقین چاہے ایک ہی مجلس میں دی جائیں یا مختلف مجالس میں اور ایک جملہ کے ساتھ دی جائیں یا الگ الگ جملوں کے ساتھ ، ان دونوں صورتوں میں تین ہی واقع ہوتی ہیں اور اس پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اجماع ہے اور ائمہ اربعہؒ کا بھی یہی مسلک ہے اس سلسلے میں قرآن و سنت میں بہت زیادہ دلائل موجود ہیں جن میں سے چند ذیل نقل کیے جا رہے ہیں ملاحظہ ہو:
قال اللہ تعالیٰ: ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ (إلی قوله) فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾ (البقرة: 229، 230)
وفی صحيح البخاري: وقال الليث: حدثني نافع، قال: كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: «لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك» (7/ 43)
۴۔ طلاق انتہائی ناپسندیدہ فعل ہے اور بلاوجہ اس عمل کے ارتکاب سے رحمٰن کا عرش ہل جاتا ہے، اس لیے حتیٰ الوسع طلاق دینے سے گریز کیا جائے، اس لیے اگر خود سمجھانے اور نصیحت کرنے کی کوشش کی جائے اگر اس کے باوجود بھی نباہ کی کوئی صورت باقی نہ ہو تو طلاق کی دھمکی دے کر دیکھ لیا جائے اگر اس کے باوجود بھی اثر نہ ہو تو پھر عورت کو پاکی کی حالت میں یہ الفاظ کہے ( میں نے تجھے ایک طلاق دی) اگر پھر بھی اصلاح کی کوئی صورت نہ آرہی ہو تو اسی طرح رہنے دے رجوع نہ کرے، تاکہ وہ اپنی عدت گزار لے اور اگر اصلاح کی صورت نظر آئے تو دوران عدت رجوع بھی کر سکتا ہے۔
۵۔ تاہم طلاق دیتے وقت اس کے وقوع کے لیے عورت کا سننا لازم نہیں۔
وفی الفتاوى الهندية: وطلاق السكران واقع إذا سكر من الخمر أو النبيذ. وهو مذهب أصحابنا رحمهم الله تعالى كذا في المحيط(1/ 353)
وفی الشامیة: ویقع طلاق من غضب خلافا الابن قیم اھ (۳/۲۴۴)
وفی سنن ابن ماجه: عن عبد الله بن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أبغض الحلال إلى الله الطلاق» (1/ 650)
وفی الهدایة: فالأحسن أن یطلق الرجل إمرأته تطلیقة واحدة فی طهر لم یجامها فیه ویترکها حتیٰ تقضی عدتھا لأن الصحابة رضی اللہ عنهم کانوا یستحبون أن لایزیدوا فی الطلاق علی واحدة حتیٰ تنقضی العدة اھ (۲/۳۵۴)
وفی الفقه الإسلامي وأدلته: وأجمع العلماء على أن الرجل إذا طلق دون الثلاث له الرجعة في العدة.
وبناء عليه: إذا طلق الرجل امرأته المدخول بها تطليقة رجعية أو تطليقتين، فله أن يراجعها في عدتها، سواء رضيت بذلك أم لم ترض؛ لأنها عند الحنفية باقية على الزوجية اھ(9/ 6987)
وفی الفقه الإسلامي وأدلته: ركن الطلاق: قال الحنفية: ركن الطلاق: هو اللفظ الذي جعل دلالة على معنى الطلاق لغة: وهو التخلية والإرسال، ورفع القيد في الصريح، وقطع الوصلة ونحوه في الكناية، أو شرعاً: وهو إزالة الحل؛ أو ما يقوم مقام اللفظ من الإشارة. (9/ 6878) واللہ أعلم بالصواب!
سورۃ احزاب کی آیت نمبر۴۵ کو حضورؐ کی حاضر وناظر ہونے پر پیش کرنا، اور غصہ، نشہ، اور ایک ساتھ تین طلاق دینے کا حکم
یونیکوڈ تیمم 0سردی کے موسم میں غسل واجب ہوجاۓ تو تیمم اختیار کرنے کے لۓکسی سے گرم پانی طلب کرنے میں شرم و حیا کا عذر کرنا
یونیکوڈ تیمم 0عید کی نماز پڑھتے ہوۓ ، وضو ٹوٹنے کی صورت میں تیمم کا حکم-نعت ریکارڈنگ کے بیک گراونڈ میں "اللہ اللہ "کا ساونڈ لگانا
یونیکوڈ تیمم 0