کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زینب کا نکاح بچپن میں زید کے ساتھ منعقد ہوا،لیکن شادی سے پہلے زید غائب ہوگیا، اور تقریبا نو سال ہوگئے ہیں، لیکن زید کے متعلق کچھ علم نہیں کہ وہ زندہ ہے یا مر گیا ہے؟ تو اب یہ معلوم کرنا ہےکہ شریعت کے رو سے زینب دوسرے آدمی کے ساتھ نکاح کر سکتی ہے یا نہیں؟اگر نہیں تو میعاد کیا ہے؟ اور کر سکتی ہے تو قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔
مذکورہ صورت میں عورت کے لئے اصل حکم یہ ہے کہ اگر وہ صبر کر کے اپنا زمانہ عفت اور پاکدامنی کے ساتھ گزار سکے تو بہتر ہے، اگر صبر نہ کر سکے تو بوقتِ ضرورت شدیدہ ( کہ خرچ وغیرہ کا انتظام نہ ہو سکے یا بلاشوہر کے رہنے میں مبتلائے معصیت ہونے کا شدید خطرہ ہو)تو یہ گنجائش ہے کہ صورت ذیل اختیار کر کے مفقود کے نکاح سے رہائی حاصل کرے۔ اور وہ صورت یہ ہے کہ عورت اپنا مقدمہ مسلمان حاکم جج ، کی عدالت میں پیش کرے اور شہادت شرعیہ کے ذریعہ ثابت کرے کہ میرا نکاح فلاح شخص کے ساتھ ہوا تھا، اس کے بعد گواہوں سے اس کا مفقود و لاپتہ ہونا ثابت کرے، اس کے بعد جج خود اپنے طور پر مفقود کی تفتیش وتلاش کرے جہاں جہاں مفقود کے جانے کا غالب گمان ہو ، وہاں آدمی بھیجا جائے اور جس جس جگہ جانے کا غالب گمان نہ ہو صرف احتمال ہو وہاں اگر خط کو کافی سمجھے تو خطوط بھیج کر تحقیق کرےاور اگر اخبارات میں شائع کر دینے سے خبر ملنے کی امید ہو تو یہ بھی کرے۔
الغرض تفتیش و تلاش میں پوری کوشش اور جہد بلیغ کرے اور اور جب تلاش کے بعد مفقود کا پتہ چلنے سے مایوسی ہوجائے تو عورت کو چار سال تک مزید انتظار کا حکم کرے پھر ان چار سالوں کے اندر بھی مفقود کا پتہ نہ چلے تو عورت حاکم کے پاس دوبارہ درخواست کرے جس پر حاکم اس کے مردہ ہونے کا فیصلہ سنا دے ، اس کے بعد چار ماہ دس دن عدت وفات گزار کر عورت کو دوسری جگہ نکاح کرنے کا اختیار ہوگا۔
اور اگر عورت عدالت میں زنا کا شدید خطرہ ظاہر کرے اور اس نے ایک عرصہ درازتک مفقود کا انتظار کرنے کے بعد مجبور ہو کر اس حالت میں درخواست دی ہو،جبکہ وہ صبر سے عاجز آگئی ہو تو اس صورت میں اس کی بھی گنجائش ہے کہ ایک سال کے انتظار کے بعد تفریق کردی جائے اور صورت مسئولہ میں یہ تفریق طلاق بائن کہلائے گی۔
البتہ صورت مسئولہ میں غیر مدخولہ ہونے کی وجہ سے عدت بھی لازم نہیں، ٭
اس کے بعدواضح ہو حاکم کے پاس جانے سے قبل جو وقت گزاردیا اس کا اعتبار نہ ہوگا۔نیز عورت حاکم کے فیصلہ کے بغیر خود بخود شوہر سابق کے نکاح سے علیحدہ نہیں ہوسکتی اور حاکم کے پاس جب درخواست دے تو حاکم پوری تحقیق کرے اور خود بھی تلاش کرے، اس کے انتظار کی مہلت دے، پھر مہلت کی مدت ختم ہوجانے پر مذکورہ بالا طریقہ اختیار کرے۔
ففی فتح القدیر: وتکون الفرقۃ تطلیقۃ بائنۃ عند أبی حنیفۃؒ لأن فعل القاضی انتسب إلیہ کما فی العینین(۴/۱۱۹)
و فی شرح العنایة: ثم إذا فرق الحاکم تکون الفرقۃ تطلیقۃ بائنۃ عند أبی حنیفۃؒ لأن فعل القاضی انتسب إلیہ لنیابتہٖ عنہ کما فی العنین۔اھ (۴ْ۱۱۹)
٭ و فی فتح القدیر: وإذا کان الزوج غنیاً اجلہ الحاکم لسنۃً فان وصل الیھا إلا فرق بینھا إذا طلبت المرأۃ ذلک وتلک الفرقۃ تطلیقۃ بائنۃ لان فعل القاضی اضیف إلی الزوج۔(۴/۱۲۹)
سورۃ احزاب کی آیت نمبر۴۵ کو حضورؐ کی حاضر وناظر ہونے پر پیش کرنا، اور غصہ، نشہ، اور ایک ساتھ تین طلاق دینے کا حکم
یونیکوڈ تیمم 0سردی کے موسم میں غسل واجب ہوجاۓ تو تیمم اختیار کرنے کے لۓکسی سے گرم پانی طلب کرنے میں شرم و حیا کا عذر کرنا
یونیکوڈ تیمم 0عید کی نماز پڑھتے ہوۓ ، وضو ٹوٹنے کی صورت میں تیمم کا حکم-نعت ریکارڈنگ کے بیک گراونڈ میں "اللہ اللہ "کا ساونڈ لگانا
یونیکوڈ تیمم 0