السلام علیکم
کیا کہتے ہیں مفتیانِ کرام کہ کوئی شخص گھر کا نقشہ بنانے کے لئے رشوت دیتا ہو ,اس کے علاوہ اس کا کوئی راستہ نہیں ہے ،اب اگر وہ شخص نقشہ بنانے کے لئے جاتا ہے تو اس سے ایک لاکھ روپے مانگے جاتے ہیں، ایک شخص اس کو کہتا ہے کہ میری جان پہچان ہے ادارے میں , آپ کا کام ستر ہزار میں کروا دیتا ہوں ،پھر وہ شخص کام ساٹھ ہزار میں کروا لیتا ہے تعلق کی بنا پر محنت کر کے , اب یہ جو شخص ہے جو ستر ہزار کا کام کروا کر دے رہا ہے , جو کام ایک لاکھ روپے کا ہو رہا تھا, پھر یہ دس ہزار اور کم کروا لیتا ہے تو کام ساٹھ ہزار کا ہو گیا ،اب اس کے لئے دس ہزار رکھنا درست ہے، اس کی محنت کی وجہ سے تفصیل سے جواب طلب ہے ،جزاک اللہ خیرا
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق مذکور دوسرےشخص نے گھر کا نقشہ بنوانے والے شخص سے اگر چہ ستر ہزار روپے میں بات طے کرلی تھی ، لیکن اگر اس نے اپنے اس عمل پر نقشہ بنوانے والے شخص سے اجرت (فیس) لینے کی بات نے نہ کی ہو اور پھر اپنے تعلقات وغیرہ کی بناء پر یہ ساٹھ ہزار روپے میں بنوایا ہو تو ایسی صورت میں مذکور شخص کیلئے پہلے شخص کے علم میں لانے کے بغیر یہ اضافی دس ہزار روپے اپنے پاس رکھنا جائز نہیں ، بلکہ یہ اسے واپس کردینا لازم اورضروری ہوگا , البتہ اگر اس کی طرف سے اجازت مل جائے تو پھر اسے اپنے پاس رکھنے میں مضائقہ نہیں ۔
فی مشکاۃ المصابیح : وَ عَن أبي حرَّة الرقاشِي عَن عَمه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سلم: «أَلا تَظْلِمُوا أَلَا لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَان وَ الدَّارَقُطْنِيّ فِي الْمُجْتَبى(5/1974)۔
و فی الدرالمختار : لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه و لا ولايته إلا في مسائل مذكورة في الأشباه .(6/200)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0