حکومتِ پاکستان کی طرف سے کم سے کم اجرت 32 ہزار کردی گئی ہے ,جو کہ فی گھنٹہ 133 روپے بنتے ہیں , اب پاکستان میں ایسے ادارے یا پرائیویٹ سکولبھی ہیں, جو اساتذہ کو سات یا آٹھ ہزار ماہانہ دیتے ہیں , اساتذہ انتہائی مجبوری میں اس استحصال کو قبول کرلیتے ہیں ، سوال یہ ہے کہ اس طرح کی قانون کی خلاف ورزی و استحصال کی کس حد تک گنجائش ہے ؟
واضح ہو کہ ملازم اور ادارے کے درمیان تنخواہ کا کوئی معیار شرعاً مقرر نہیں، بلکہ شریعت نے اس کو جانبین کی باہمی رضامندی پر چھوڑا ہے ،لہٰذا متعاقدین باہمی رضامندی سےجس تنخواہ پر راضی ہو جائیں اس پر معاملہ کرنا شرعاً جائز ہے۔
البتہ اگر حکومت کی جانب سےتنخواہ کی کم از کم مقدار مقرر ہو ،اور ادارہ استطاعت کے باوجود اپنی ملازمین کو اتنی تنخواہ بھی نہ دےکہ جس سے گزر بسرممکن ہو ،اور ملازمین کیلئے دوسرے ذرائعِ آمدن اختیار کرنا بھی مشکل یا نا ممکن ہو ،تو ادارہ والوں کا مذکور طرزِ عمل بالکل بھی مناسب نہیں، بلکہ انکو چاہیئے کہ اپنے ملازمین کیلئے سرکار کی جانب سے مقرر کردہ تنخواہ یا اتنی تنخواہ مقرر کریں ،کہ جس سے ان کی ضروریات آسانی کے ساتھ پوری ہو سکیں، تاہم اگر پھر بھی کوئی ملازم بحالتِ مجبوری کم تنخواہ پر راضی ہوجائے ،تو شرعاً یہ ناجائز نہ ہوگا ۔
لیکن اگر حکومت کو ملازمین کی اجرت بتانی پڑے، یامالیالتی گوشواروں میں ظاہر کرنی پڑے ،تو اس صورت میں ادارے پر لازم ہوگا کہ اس معاملے میں غلط بیانی سے کام نہ لے، بلکہ اتنی ہی اجرت بتائے ، جتنی کہ دی جارہی ہے۔
فی الدر المختار :(و الثاني) و هو الأجير (الخاص) و يسمى أجير وحد (و هو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص و يستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة و إن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) اھ (6/69)۔
و فی الشامیۃ : (و لا يسعر حاكم) لقوله - عليه الصلاة و السلام - «لا تسعروا فإن الله هو المسعر القابض الباسط الرازق» (إلا إذا تعدى الأرباب عن القيمة تعديا فاحشا فيسعر بمشورة أهل الرأي) (الی قولہ ) و أفاد أن التسعير في القوتين لا غير و به صرح العتابي و غيره ، لكنه إذا تعدى أرباب غير القوتين و ظلموا على العادة فيسعر عليهم الحاكم اھ۔
(قوله بما تجب) فحينئذ بأي شيء باعه يحل زيلعي . و ظاهره أنه لو باعه بأكثر يحل و ينفذ البيع و لا ينافي ذلك ما ذكره الزيلعي و غيره من أنه لو تعدى رجل و باع بأكثر أجازه القاضي ، لأن المراد أن القاضي يمضيه و لا يفسخه ، و لذا قال القهستاني : جاز و أمضاه القاضي ، اھ(6/400)-
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0