ترجمہ: السلام علیکم ! کرایہ پر گاڑی دینے والی کمپنی کی کرایہ پالیسی کے بارے میں وضاحت درکار ہے میری کمپنی اپنے ملازم کو یہ اختیار دیتی ہے کہ جس میں کمپنی اپنے نام پر گاڑی خریدتی ہے، اور ملازم کو چار سال کیلئے کرایہ پر دیتی ہے، کمپنی گاڑی کے مالکانہ حقوق انتظام اپنے قبضہ میں رکھتی ہے ، چار سال بعد اگر ملازم چاہے، تو گاڑی واپس جمع کرا دے یا چاہے تو گاڑی خرید لے مقررہ قیمت پر، ادا شدہ کرایہ اور مقررہ قیمت دونوں مجموعی طور پر گاڑی کی حقیقی قیمت سے زیادہ ہوتا ہے، برائے مہربانی مجھے بتائیں کہ مذکور کمپنی کی" کار لیز رینٹلی پالیسی "حلال ہے یا حرام ؟
کمپنی کی طرف سے اپنے ملازم کو چار سال کیلئے گاڑی کرایہ پر دیئے جانے کے دوران اگر گاڑی کمپنی کی رسک اور ضمان میں ہو اور کرایہ داری کی مدت (چار سال ) پوری ہونے کے بعد کمپنی اور ملازم کی رضامندی سے قیمت، طے کر کے ایک نئے عقد (سیل کنٹکٹ ) کے ذریعے گاڑی ملازم کو فروخت کی جائے تو شرعًا اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔
کما في الدر المختار: (ويعلم النفع ببيان المدة كالسكنى والزراعة مدة كذا أي مدة كانت وإن طالت ولو مضافة كاجرتكها غدا وللمؤجر بيعها اليوم وتبطل الإجارة به يفتي خانية (6/6)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0