السلام علیکم
میں ایک بزرگوں کا اولڈ ہوم ادارہ چللاتی ہوں ,اس میں کچھ ایسے بزرگ ہوتے ہیں کہ جن کے گھر والے انکو اپنی مرضی سے یہاں داخل کرواتے ہیں، اور انکی ہر ماہ کی ایک مناسب فیس بھی ہوتی ہے ، جس سے بلڈنگ کا کرایہ اور کھانے پینے کا , بجلی گیس وغیرہ کے بل اور سٹاف کی اجرت دی جاتی ہے، مجھے یہ پوچھنا ہے کہ کیا اسلام میں یہ جائز ہے ؟
سائلہ کیلئے اولڈ ہاؤس چلانا اوراسکی فیس لینا شرعاً جائز ہے، اس میں کوئی قباحت و ممانعت نہیں، البتہ یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیئے کہ بوڑھے والدین کی خدمت کرکے ان سے دعائیں لینا اور اپنے لئے جنت کا راستہ آسان کرنا ہر بیٹے پر لازم ہے، احادیثِ مبارکہ میں اسکی بڑی ترغیب وارد ہوئی ہے، اور انکی خدمت میں کمی کوتاہی کر نا اور اس کو اپنے لئے باعثِ عار اور بوجھ سمجھنا انتہائی درجہ کی بد نصیبی اور کم بختی ہے، چنانچہ ایک حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ایسے شخص کیلئے بد دعا کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تباہ و برباد ہو جائے وہ شخص کہ جو اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کو بڑھاپے کی حالت میں پائے اور انکی خدمت کرکے اپنے لئے جنت واجب نہ کرے ، اس لئے اولڈ ہاؤس میں اپنے بوڑھے والدین کو جمع کرانے والوں کو اس نقطۂ نظر سے بھی سوچنا چاہیئے اور سائلہ کو بھی چاہئیے کہ ان کو از خود اپنے بوڑھے والدین کی خدمت کی ترغیب دے ، تاہم اگر پھر بھی کوئی شخص اپنے بوڑھے والدین کو انکے پاس جمع کرا ئے تو سائلہ کیلئے انکی خدمت کے عوض فیس لینا بہرحال جائز ہے۔
فی أحكام القرآن للجصاص : و وصينا الإنسان بوالديه إحسانا و اخفض لهما جناح الذل من الرحمة قال لاتمنعھما شيئا يريدانه ۔الخ (5/ 19)۔
و فی صحيح مسلم : عن أبي هريرةؓ عن النبيﷺ قال رغم أنفہ ثم رغم أنفہ ثم رغم أنفہ ، قيل من يا رسول الله ؟ قال من أدرك أبويه عند الكبر أحدهما أو كليھما فلم يدخل الجنة۔الحدیث (4/ 1978)۔
و فی کنز العمال : خیر الناس من ینفع الناس۔الحدیث (4/ 1978)۔
و فی جامع الترمذی : من نفس عن مؤمن کربۃ من کرب الدنیا ، نفس اللہ عنہ کربۃ من کرب یوم القیامۃ(الی قولہ) و اللہ فی عون العبد ما کان العبد فی عون اخیہ۔الحدیث (1/263)-
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0