کیا ہم اپنی گاہک سے commission کی مد میں پیسے لے سکتے ہیں؟ جب کہ اس commission کی رقم کا گاہک کو معلوم نہیں ہوتا۔
سائل کا سوال پوری طرح واضح نہیں کہ اس کا گاہک سے کمیشن لینے کی کیا صورت ہے ، تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا ، تاہم اگر سائل کسی شخص کے لیے بطور وکیل (ایجنٹ) کوئی چیز خرید تا ہو تو اپنے اس عمل پر سائل کے لیے طے شدہ کمیشن لینے کی اگر چہ گنجائش ہے، لیکن اس کے لئے متعلقہ شخص (گاہک) سے با قاعدہ بات کر کے اپنا کمیشن طے کر نالازم اور ضروری ہے ، متعلقہ شخص (گاہک) کو لا علم رکھ کر اس سے کمیشن کے مد میں رقم حاصل کرنا جائز نہیں، جس سے اجتناب لازم ہے۔
ففي سنن الترمذي: عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة من طعام، فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا، فقال: «يا صاحب الطعام، ما هذا؟»، قال: أصابته السماء يا رسول الله، قال: «أفلا جعلته فوق الطعام حتى يراه الناس»، ثم قال: «من غش فليس منا» (3/ 598)
و في حاشية ابن عابدين: و في الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه اھ (6/ 63)-
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0