کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مجھے الحمد للہ سرکاری ملازمت (عربیک ٹیچر ) کا موقع مل گیا، لیکن میں کئی سالوں سے پرائیویٹ امام ہوں، محلے والے مجھے نہیں چھوڑتے ہیں، اب پوچھنا یہ ہے کہ میرا ایک بڑا بھائی ہے جو مجھ سے زیادہ قابل بھی ہے اور کئی سال عربی کا درس بھی دیا ہے، کیا وہ میری جگہ پر ملازمت کر سکتا ہے یا نہیں ؟ اگر نہیں کر سکتا ہے تو جواز کی کوئی صورت یا حیلہ ہے کہ وہ میری جگہ پر سرکاری ڈپٹی ادا کریں ؟جبکہ تنخواہ بھی سب کے سب وہی سرکاری بڑا بھائی لے رہا ہو ؟
بینوا و توجروا
متعلقہ ادارے کی طرف سے باقاعدہ اجازت کے بغیر سائل کے لئے اپنی جگہ اپنے بھائی کو بطورِ متبادل مستقل طور پر استاذ مقرر کرنا تو شرعاً جائز نہیں، تاہم اگر ادارہ سائل کا تقرر ختم کر کے اس کی جگہ اس کے بھائی کا تقرر کر دے، تو ایسی صورت میں سائل کے بھائی کے لئے بطور استاذ وہاں ملازمت کرنا اور اس سے حاصل شدہ آمدنی کو اپنے استعمال میں لانا بلاشبہ جائز ہو گا۔
كما في الدر المختار: (وقوله على أن تعمل إطلاق) لا تقييد مستصفى، فله أن يستأجر غيره اھ (6/ 19)۔
وفی الهداية شرح البداية: وإن أطلق له العمل فله أن يستأجر من يعمله لأن المستحق عمل في ذمته ويمكن إيفاؤه بنفسه وبالاستعانة بغيره اھ (3/ 234)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0