السلام علیکم!
میرا سوال یہ ہے کہ میں ایزی پیسہ موبائل شاپ کھولنا چاہتا ہوں،ایزی پیسہ ریٹیلراکاؤنٹ سے دوکاندار کو ایک بل ادا کرنے پر چار/4 روپے کمپنی کی طرف سے دیے جاتے ہیں، مگر عام طور پر جتنی بھی ایزی پیسہ شاپ ہیں،وہ کمپنی کی طرف سے دیے گئے چار/4 روپے کے علاوہ کسٹمر سے فی بل پر 10 روپے وصول کرتے ہیں،سوال یہ ہے کہ کیا اوپر کے پیسے لینا جائز ہے؟ کیونکہ دیگر دوکانداروں کے بقول فی بل چار/4 روپے سے ان کے اخراجات پورے نہیں ہوتے،رہنمائی فرما دیں۔
واضح ہوکہ ایزی پیسہ کاروبار میں"ایزی پیسہ ریٹیلر" کی حیثیت ایک ایجنٹ اور دلال کی ہے،جو گاہک اور کمپنی کے درمیان معاملات طے کرتا ہے، اگر متعلقہ کمپنی کی طرف سے اس اضافی رقم لینے پر کوئی پابندی نہ ہو تو بل جمع کرانے سے پہلے کسٹمر کو آگاہ کرکے فی بل10 روپے وصول کرنا شرعاً جائز ہے،ورنہ نہیں۔
کمافی الشامیة: مطلب في أجرة الدلال [تتمة] قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام اھ(6/63)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0