السلام علیکم حضرت مفتی صاحب!
میں ایک سرکاری محکمے میں کام کرتا ہوں ،میں سافٹ ویئر کا کام کرتا ہوں، مطلب سافٹ ویئر انجنیئر ہوں ، اور سافٹ ویئر بناتا ہوں، دفتر میں انٹرنیٹ ہر وقت موجود ہے، دفتر میں مجھے سافٹ ویئر اور دیگر کاموں کا انچارج بنایا گیا ہے ، یہاں دفتر میں زیادہ کام نہیں ہے ، میں پورا دن فارغ بیٹھا رہتا ہوں۔
۱: کیا اس دوران میں دوسروں سے باتیں یا اخبار پڑھ سکتا ہوں ،یا موبائل پر گیم کھیل سکتا ہوں؟
۲: کیا میں کوئی دینی کتاب پڑھ سکتا ہوں یا ذکر اذکار کر سکتا ہوں؟
۳:کیا میں اپنا کام کر سکتا ہوں ، اپنے لئے یا کسی اور کے لئے اس دفتر میں بیٹھ کر سافٹ ویئر بنا لیا کروں ؟ یا آن لائن کمائی کر لیا کروں ، کیوں کہ انٹرنیٹ تو موجود ہے ؟
۴: میرا ارادہ ہے کہ میں آگے مزید تعلیم حاصل کروں ،جو کہ سافٹ ویئر سے متعلق ہے یعنی جو مجھے اسی نوکری میں ترقی دے گی کیا اس دوران میں وہ مطالعہ کر سکتا ہوں ؟
۵: اگر میں آگے مزید تعلیم حاصل کرنا چاہوں، جو کہ اس نوکری سے متعلق نہ ہو ،جیسے کہ مثال کے طور پر میں سی ایس ایس کا امتحان دینا چاہتا ہوں ، کیا اس دوران میں وہ مطالعہ کر سکتا ہوں؟
۶: میں نے اجازت لے لی ہے کہ جب فارغ ہونگا ،تو سی ایس ایس کے امتحان کی تیاری کر لیا کروں گا، تو میرے انچارج افسر نے اجازت دے دی ہے ،کیا اب یہ جائز ہے ؟ مہربانی فرما کر سب سوالوں کہ جواب دیں۔
سائل نے جو صور تیں ذاتی کاموں کی سوال میں ذکر کی ہیں ، ڈیوٹی ٹائم کے دوران فارغ وقت میں ان کاموں میں لگنے کی وجہ سے اگر آفس کے کاموں میں حرج نہ ہوتا ہو، اور کمپنی مالکان کی طرف سے بھی کوئی ممانعت نہ ہو تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں، مگر آفس کے انٹر نیٹ کا ان مقاصد میں کمپنی مالکان کی صراحۃً یا دلالۃً اجازت کے بغیر استعمال جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے، البتہ اگر ان کی طرف سے صراحۃً یا دلالۃ اجازت ہو تو پھر اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔
کما في الدر المختار: (والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) اھ (6/ 69)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة وفي فتاوى سمرقند: وقد قال بعض مشايخنا له أن يؤدي السنة أيضا. واتفقوا أنه لا يؤدي نفلا وعليه الفتوى. وفي غريب الرواية قال أبو علي الدقاق: لا يمنع في المصر من إتيان الجمعة، ويسقط من الأجير بقدر اشتغاله إن كان بعيدا، وإن قريبا لم يحط شيء فإن كان بعيدا واشتغل قدر ربع النهار يحط عنه ربع الأجرة اھ (6/ 70)۔
وفي الدر المختار: (ولا يسافر بعبد استأجره للخدمة) لمشقته (إلا بشرط) ؛ لأن الشرط أملك عليك أم لك، وكذا لو عرف بالسفر؛ لأن المعروف كالمشروط اھ (6/ 73)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0