ہمارے مدرسہ میں سالانہ تین امتحان لیے جاتے ہیں ، اور ان میں فیس بھی لیتے ہیں ، امتحان کی تمام ضروریات کے پورا ہونے کے بعد بقیہ روپیہ تمام اساتذہ کے مابین تقسیم کر دیتے ہیں۔ کیا یہ صورت جائز ہے ؟
امتحانی اخراجات پورے کرنے کے بعد بچ جانے والی رقم اساتذہ کرام کے درمیان پرچے چیک کرنے یا نگرانی کرنے پر ان کے درمیان مدرسہ کی طرف سے تقسیم کی جاتی ہو ، جبکہ امتحانی فیس کے متعلق بھی مدرسہ کا ضابطہ یہی ہو تو اس میں شرعاً کوئی حرج معلوم نہیں ہوتا، تاہم اگر اس کے علاوہ کوئی اور صورت ہو تو اس کی وضاحت کر کے سوال دوبارہ بھیج دیا جائے تو ان شاء اللہ اس کے مطابق حکمِ شرعی سے آگاہ کیا جائیگا۔
و في الفتاوى الهندية: فنقول إنها نوعان نوع يرد على منافع الأعيان كاستئجار الدور والأراضي والدواب والثياب وما أشبه ذلك ونوع يرد على العمل كاستئجار المحترفين للأعمال كالقصارة والخياطة والكتابة وما أشبه ذلك كذا في المحيط (4/ 411)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0