میں ایک سرکاری ملازم ہوں ، میراگھر صوابی میں ہے ، اور میں پشاور میں کام کرتا ہوں، میں نے یہاں پر ایک کمرہ کرایہ پر لیا ہوا ہے، جس میں میں رہتا ہوں، باقی گھر والے صوابی میں ہیں، حکومت ہمیں دو اختیارات دیتی ہے، (1) یا تو ہمیں ملازمتی گھر (۲)یا کرائے کی رقم ، چونکہ مجھے ملازمتی گھر کی ضرورت نہیں، کیونکہ میں اکیلا ہوں اور گھر والے پشاور میں ہیں، تو مجھے دوسرا اختیار کرائے کی رقم کا ہے، کرائے کی رقم حکومت تب دیتی ہے کہ میں کسی کرائے کے گھر میں رہتا ہوں ، وہ گھر بڑا ہونا چاہیئے ، حکومت اس کے عوض ہمیں اٹھارہ ہزار روپے دیتی ہے ، بہت سارے لوگ کسی پراپرٹی ڈیلر یا کسی دوست کو کہہ دیتے ہیں کہ میں تمہارے گھر کو کرایہ پر لے لونگا، وہ اصل میں کرائے پر لیتے نہیں صرف حکومت کو دکھانے کے لئے ، تو میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا میں یہ کرایہ لے سکتا ہوں یا نہیں ؟ کیونکہ اس کے لئے مجھے ان کو جھوٹ بتانا ہوتا ہے کہ فلاں گھر میں نے کرائے پر رکھا ہوا ہے، حالانکہ میں ایک کمرہ میں رہتا ہوں، دوست کہتے ہیں کہ یہ ٹھیک ہے ، کیونکہ میں کمرہ کا کرایہ تو دیتا ہوں، اور صوابی میں میرے گھر والے بھی کسی گھر میں تو رہتے ہیں، تو آپ بتائیں کہ کیا یہ کرایہ لینا ٹھیک ہے کہ نہیں؟ اللہ آپ کو جزائے خیر دیں۔
جب مذکور سرکاری ادارے نے اپنے ملازمین کو کرایہ ’’بونس‘‘ دینے کے لئے کچھ شرائط مقرر کی ہیں تو ملازمین کو اسی کا لحاظ رکھنا لازم ، جب تک مطلوبہ نوعیت کی جگہ میسر نہ ہو، اس وقت تک سرکار کے متعلقہ مجاز افسران کے علم میں لا کر وہ صرف اپنی متعلقہ جگہ کا کرایہ وصول کر سکتے ہیں۔
و في صحيح مسلم: عن أبي هريرة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من حمل علينا السلاح فليس منا، ومن غشنا فليس منا» اھ (1/ 99)
و في موطأ مالك ت الأعظمي: مالك عن صفوان بن سليم؛ أن رجلا قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم: أأكذب امرأتي يا رسول الله؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا خير في الكذب». فقال الرجل: يا رسول الله! أعدها وأقول لها؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا جناح عليك». اھ (5/ 1440)
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0