آج کل ایسی ویب سائٹس آ رہی ہیں کہ جن میں اشتہارات دیکھنے ہوتے ہیں ،اور اس بات کے پیسے ملتے ہیں، شروع میں اکاؤنٹ بنانا پڑتا ہے، جو کہ پیسوں میں بنتا ہے، مجھے جس ویب سائٹ کا چاہیئے وہ یہ ہے (www work uto.com) اس کی پوری تشریح اس ویڈیو میں ہے (s;//youtu.be/xvrlf6zgqm) ازراہِ کرم ویڈیو دیکھ کر مسئلہ بتائیں۔
سائل کو جن اشتہارات کے دیکھنے پر پیسے ملتے ہیں، وہ اگر غیر شرعی نہ ہوں، اور نہ ہی اس سے کسی غیر شرعی کام یا حرام پروڈکٹ کی تشہیر ہوتی ہو تو ایسے اشتہارات کے کلک پر اجرت وصول کر کے پیسے کمانا شرعاً جائز ہے۔
ففي الدر المختار: وفي الأشباه: استعان برجل في السوق ليبيع متاعه فطلب منه أجرا فالعبرة لعادتهم، وكذا لو أدخل رجلا في حانوته ليعمل له. وفي الدرر: دفع غلامه أو ابنه لحائك مدة كذا ليعلمه النسج وشرط عليه كل شهر كذا جاز، ولو لم يشترط فبعد التعليم اھ (6/ 42)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله فالعبرة لعادتهم) أي لعادة أهل السوق، فإن كانوا يعملون بأجر يجب أجر المثل وإلا فلا اھ (6/ 42)۔
وفي الفتاوى الهندية: وفي الواقعات للناطفي إذا قال لرجل بع هذا المتاع ولك درهم أو قال اشتر لي هذا المتاع ولك درهم ففعل فله أجر مثله لا يجاوز به الدرهم وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل وما تواضعوا عليه أن من كل عشرة دنانير كذا فذلك حرام عليهم كذا في الذخيرة اھ (4/ 450) ۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0