سوال یہ ہے کہ آج کل ایک اکاونٹ ہے جس کو ایزی پیسہ اکاونٹ کہا جاتا ہے، اس اکاونٹ میں جو کہ موبائل نمبر پر کھولا جاتاہے، جب کوئی رقم جمع کرتاہے، اور پھر اس اکاؤنٹ سے دوسری جگہ رقم ٹرانسفر کرتا ہے (مثلاً کسی نمبر پر اس اکاونٹ سے ایزی لوڈ کرتا ہے) تو کمپنی کی طرف سے کچھ رقم اس کو واپس فری میں ملتا ہے، جس کو کیش بیک کہا جاتاہے، کیا یہ رقم جو کمپنی کی طرف سے واپس (فری میں ) ملتا ہے، سود کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں، اور ایزی پیسہ اکاونٹ کا استعمال جائز ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ ایزی پیسہ اکاونٹ ہولڈر متعلقہ کمپنی کی سروسز (ایزی لوڈ، کیش ٹرانسفرنگ وغیرہ) مہیا کرنے میں کمپنی کا نمائندہ اور وکیل ہے، جس پر کمپنی انہیں طے شدہ کمیشن (اجرت) دیتی ہے، اور صورت مسئولہ میں مذکور ایزی پیسہ اکاونٹ اسی عقد وکالت پر مبنی ہے، جس میں ملنے والی رقم سود نہیں، بلکہ اپنی خدمت کامعاوضہ ہے، جس کا لینا شرعاً جائز ہے۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0