السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میرا سوال یہ ہے کہ میں جہاں جوب کرتا ہوں ،وہاں پر اور ٹائم ملتا ہے، مطلب ایک گھنٹہ کریں گے، تو ڈیڑھ گھنٹہ کے پیسے ملیں گے ،اور ڈیوٹی ٹائم سنگل ہے، سنگل ملتا ہے اگر چھٹی کرنے پر اور ٹائم میں سے پیسے کاٹے جائیں یعنی ڈیڑھ میں سے کاٹا جائے تو کیا یہ کاٹنا جائز ہو گا ؟ جواب ارشاد فرما کر رہنمائی فرمائیں جزاک اللہ!
سائل جہاں جاب کرتا ہے، وہاں کے طریقہ کار کے مطابق پیسے کاٹے جانے کا مذکور اصول و ضوابط اگر ملازمین کو شروع تقرری کے وقت ہی بتا دیے جاتے ہوں، اور تنخواہ بھی یومیہ گھنٹوں کی بنیاد پر دی جاتی ہو تو اس صورت میں سائل جتنا وقت غیر حاضر ہوگا ،اتنے وقت کی تنخواہ منہا کر لینا شرعاً جائز اور درست ہے ۔
كما في الدر المختار: وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل (6/ 70) ۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0