کیا ہم اپنی بلڈنگ یا دوکان ، بینک کو کرایہ پر دے سکتے ہیں ،اور جو کرایہ بینک سے وصول ہو جائے عمارت یا دوکان کا حلال ہے ؟ برائے مہربانی جواب دیں۔
اگر بینک غیر اسلامی ہو تو واضح ہو کہ کسی بھی غیر اسلامی بینک کو اپنی زمین و جائیداد کرایہ پر دینے کی اگرچہ اجازت ہے، مگر جب ان بینکوں کا سودی معاملات میں ملوث ہونا یقینی ہے، تو اس صورت میں کسی ایسے سودی معاملات انجام دینے والے ادارے کو اپنی زمین یا جائیداد وغیرہ کرایہ پر دینے سے احتراز چاہیے، کیونکہ یہ اعانت علی المعاصی کے زمرے میں داخل ہو سکتا ہے ۔
ففي الدر: وجاز (إجارة بيت بسواد الكوفة) (إلى قوله) ليتخذ بيت نار أو كنيسة أو بيعة أو يباع فيه الخمر. وقالا لا ينبغى ذلك لأنه إعانة على المعصية الله.
وفي الشامية: تحت (قوله وجاز اجارة بيت الخ) هذا عنده ايضاً لأن الإجارة على منفعة البيت، ولهذا يجب الأجر بمجرد التسليم، ولا معصية فيه وإنما المعصية بفعل المستأجر وهو مختار فينقطع نسبته عنه فصار كبيع المجارية ممن لا يستبرئها أو يأتيها من دبر اھ (۶/۱۳۹۲) واللہ تعالٰی اعلم!
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0