السلام علیکم!
کیا فرماتے ہیں علماءِکرام اور مفتیانِ دینِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل انٹر نیٹ پر ایک ویب سائٹ ہے ، paywao کے نام سے ، اس کا طریقہ کار اس طرح ہے کہ اس پر رجسٹرڈ ہونے کیلئے پہلے 230 روپے ان کو بھیجے جاتے ہیں، اور بدلے میں 2000 پوائنٹس مل جاتے ہیں ؟ مثال کے طور پر زید اس ویب سائٹ کا ایک فرد بن جاتا ہے ،اور اس کو ایک حوالہ نمبر دیا جاتا ہے کہ اگر کوئی اور زید کی وساطت سے اس ویب سائٹ میں آتا ہے ،تو وہ زید کا حوالہ نمبر درج کر لیتا ہے ، اب زید کا یہ کام ہوتا ہے ، کہ وہ کمپنیوں کے اشتہارات دیکھتا ہے ، جس سے اس کے اکاونٹ میں پیسے آتے ہیں ،اور اگر وہ اشتہار نہیں دیکھتا تو کچھ بھی نہیں ملتا، زيد کی وساطت سے آنے والے افراد سے زید کو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ افراد نہ ہونے کی وجہ سے زید کو اشتہار دیکھنے کے صرف 10 پیسے ملتے تھے، لیکن اب 5 افراد جمع کرنے پر زید کو 4 روپے فی اشتہار کے ملتے ہیں، اسی طرح ایسا سلسلہ شروع رہتا ہے اور افراد کے بڑھنے سے زید کو بھی فائدہ ملتا ہے اور اس کے نیچے افراد اگر ٹیم بڑھائینگے تو انہیں بھی منافع ہوتا ہے۔
اگر یہ اشتہارات کسی قسم کے غیر شرعی اور ناجائز امور کی نمائندگی نہ کرتے ہوں، اور اُن کی وجہ سے بیچی جانے والی اشیاء بھی جائز اور حلال ہوں، تو ایسی ویب سائٹ پر اپنا اکاؤنٹ بنا کر اجرت لینے کی گنجائش ہے۔
قال الله تعالیٰ: ﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾ (المائدة: 2)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0