السلام علیکم ! جناب مذکور مسئلہ میں رہنمائی فرمائیے گا کہ براہ راست فروخت کا جو تصور ہے جس میں بنانے والا اپنی پیداوار کو خود صارف کو بلا واسطہ بیچتا ہے اور وہ صارف آگے مارکیٹنگ کرتا ہے اور لوگوں کو آگے بیچتا ہے جس پر صارف کو کمیشن دیا جاتا ہے۔ کمپنی اپنا مارکیٹنگ بجٹ علیحدہ کر لیتی ہے اور اس میں سے صارفین کو معاوضہ ادا کرتی ہے صارف کو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ اس کو چیز بھی استعمال کرنے کے لئے مل جاتی ہے اور ساتھ میں کاروبار بھی مل جاتا ہے کمپنی کی ڈسٹریبیوشن (کسی ادارے یا کارخانے کی پیداوار کی تقسیم کا عمل) فری میں مل جاتی ہے۔ وہ اپنی ٹیم کو تیار کرتا ہے جو آگے لوگوں کو اس کے بارے میں بتاتے ہیں اور اس پر کمپنی اپنے بجٹ میں سے ان سب کو معاوضہ ادا کرتی ہے یاد رہے کہ پیداوار کی قیمت بھی بہت کم ہے مارکیٹ ریٹ کے مطابق ہے۔ پروڈکٹ (پیداوار) بھی حلال ہے ۔ کیا اس صورت میں یہ کاروبار کرنا جائز ہے ۔ ؟
سائل نے یہ نہیں لکھا کہ مذکور کمپنی کیا چیز تیار کرتی ہے اور مارکیٹ میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعہ فروخت کرتی ہے ۔ تاہم مذکور کمپنی اگر واقعۃً کوئی حلال چیز تیار کرتی ہو اور پھر اس کو ایجنٹوں کے ذریعہ مارکیٹ میں فروخت کرتی ہو تو کمپنی کا مذکور مال فروخت کرنا اور حاصل شدہ آمدنی کو اپنے استعمال میں لانا اور ایجنٹوں کا اس مال کو فروخت کرنے کا ذریعہ بن کر کمپنی سے کمیشن لینا ہر دو امور جائز اور درست ہیں۔
كما فى حاشية ابن عابدين (رد المحتار): قال في التتارخانية: و في الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. و في الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به اھ (6/ 63)
و في الفتاوى الهندية: إذا قال لرجل بع هذا المتاع ولك درهم أو قال اشتر لي هذا المتاع ولك درهم ففعل فله أجر مثله لا يجاوز به الدرهم و في الدلال والسمسار يجب أجر المثل اھ (4/ 450)
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0