کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ انتظامیۂ مسجد جب ایک آدمی کو چندہ کیلئے مختص کرتی ہے اور پھر اس کو اس چندہ سے اجرت دیتے ہیں،کیا یہ "قفیز الطحان" کے قبیل سے ہے یا نہیں؟
چندہ کرنے والے کو اس کے جمع کردہ چندہ میں سے کٹوتی کرنا قفیز الطحان کے احتمال کی بناء پر درست نہیں،البتہ وہ چندہ لاکر مسجدِ انتظامیہ کے حوالہ کردے اور پھر طے شدہ فیصد کے حساب سے اسے خزانۂ مسجد سے دے دیا جائے تو یہ صورت بلاشبہ جائز اور درست ہے اور اسی کو اختیار کرنا چاہیئے ۔
کمافی الھدایة: قال ومن دفع الی حائك غزلا لینسجه بالنصف فله اجر مثله(الیٰ قوله) لانه جعل الاجر بعض مایخرج من عمله فیصیر فی معنی قفیز الطحان وقد نھی النبی ﷺ عنه اھ(3/305)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0