سیکورٹی ایجنسی والے بینک والوں کو سیکورٹی کیلئے گارڈ دیتے ہیں، اب بینک والے سیکورٹی ایجنسی کو اس گارڈ کی ڈیوٹی کے پیسے دیتے ہیں، اب گارڈ کیلئے یہ تنخواہ لینا ٹھیک ہے یا نہیں، کیونکہ بینک کا کام تو سود کا ہے، اسی طرح باہر کے ممالک میں سیکورٹی گارڈ ہوٹلوں میں نوکری کرتے ہیں، تو ان ہوٹلوں میں جوا بھی ہوتا ہے، زنا بھی ہوتا ہے، ناچ گانا بھی ہوتا ہے،شراب بھی پی جاتی ہے، اس کے علاوہ لوگ وہاں ہوٹلوں میں رہائش رکھتے ہیں، اور کھانا بھی کھاتے ہیں، سیکورٹی گارڈز کا ان جگہوں پر نوکری کرنا کیسا ہے اور سیکورٹی ایجنسی سے ان جگہوں پر نوکری کرنے کی تنخواہ لینا جائز ہے یا ناجائز؟
سیکورٹی گارڈ کا اپنی متعلقہ سیکورٹی کمپنی سے یا بینک یا اس قسم کے ہوٹلوں پر نوکری کی تنخواہ لینا جائز ہے، تاہم بہتر یہ ہے کہ کسی ایسی جگہ ملازمت تلاش کرے جہاں کسی طرح ناجائز امر کا ارتکاب یا اسکی معاونت نہ کرنی پڑتی ہو۔
کما فی الفتاوی الھندیة: ولا يجوز قبول هدية أمراء الجور؛ لأن الغالب في مالهم الحرمة إلا إذا علم أن أكثر ماله حلال بأن كان صاحب تجارة أو زرع فلا بأس به؛ لأن أموال الناس لا تخلو عن قليل حرام فالمعتبر الغالب، وكذا أكل طعامهم، كذا في الاختيار شرح المختار اھ(5/342)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0