مفتی صاحب میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ دکان یا مکان کا ایک سال ایڈوانس کرایہ اور ایک مہینے کی سیکورٹی لی جاتی ہے، اس کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
دکان یا مکان کرایہ پر دے کر سال بھر کا کرایہ ایڈوانس وصول کرنا اور ایک ماہ کی سیکورٹی ایڈوانس لینا شرعا جائز ہے اور یہ شرعا قرض کے زمرے میں آتا ہے۔
ففي الدر المختار: (تفسد الإجارة بالشروط المخالفة لمقتضى العقد فكل ما أفسد البيع) مما مر (يفسدها) اھ (6/ 46)
وفيه ايضا : (فيصح) البيع (بشرط يقتضيه العقد) (كشرط الملك للمشتري) وشرط حبس المبيع لاستيفاء الثمن (أو لا يقتضيه ولا نفع فيه لأحد) (إلی قوله) (أو لا يقتضيه لكن) يلائمه كشرط رهن معلوم وكفيل حاضر ابن ملك، أو (جرى العرف به كبيع نعل) أي صرم سماه باسم ما يئول عيني (على أن يحذوه) البائع (ويشركه استحسانا) اھ (5/ 86)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): ولأن العرف إنما صار حجة بالنص وهو قوله - صلى الله عليه وسلم - «ما رآه المسلمون حسنا فهو عند الله حسن» اهـ (5/ 176)
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0