میں ایک کمپنی میں کمپنی کے لیے خریدار کی حیثیت سے ملازم ہوں ، کمپنی کو ضرورت پڑنے پر میں مختلف سپلائزر کو آرڈر دیتا ہوں، اور وہ کمپنی کیلئے سامان دیتے ہیں ،کچھ سپلائر مجھے کہتے ہیں کہ وہ مجھے کچھ کمیشن دینگے، کیونکہ میں نے ان کو کاروبار دیا ہے ۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا اُن سے کمیشن لینا صحیح ہے یا نہیں؟
سائل مذکور امور کی انجام دہی کیلئے کمپنی کا وکیل ہے، جس پر اسے طے شدہ اجرت بھی ملتی ہے، اس لئے اس کا اپنے متعلقہ کام پر سپلائروں سے کمیشن لینا جائز نہیں ۔
ففي حاشية ابن عابدين: الثاني: ارتشاء القاضي ليحكم وهو كذلك ولو القضاء بحق؛ لأنه واجب عليه اھ(5/ 362). والله اعلم با الصواب!
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0