السلام علیکم !کیا فرماتے ہیں علماء دین کہ زید نے بکر کا مکان 100,000 روپے ایڈوانس اور / 100 روپے کرایہ پر لیا اور پھر زید نے اس مکان کو 20,000/ ایڈوانس اور 3000/- روپے کرایہ پر دے دیا، کیا اس طرح کا کاروبار جائز ہے؟
صورت مسئولہ میں مذکور معاملات شرعاً جائز نہیں، بلکہ بصورت ایڈوانس قرض کے عوض کرایہ میں کمی کرنا ہے جو پیشہ کا سود کے زمرے میں آتا ہے، اس لیے اس طرز عمل سے احتراز لازم ہے۔
و في الدر المختار: و في الأشباه كل قرض جر نفعا حرام اھ (5/ 166)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر اھ (5/ 166)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): و في الخانية: رجل استقرض دراهم وأسكن المقرض في داره، قالوا: يجب أجر المثل على المقرض؛ لأن المستقرض إنما أسكنه في داره عوضا عن منفعة القرض لا مجانا اھ (6/ 63)
و في الفتاوى الهندية: وإذا استأجر دارا وقبضها ثم آجرها فإنه يجوز إن آجرها بمثل ما استأجرها أو أقل وإن آجرها بأكثر مما استأجرها فهي جائزة أيضا إلا إنه إن كانت الأجرة الثانية من جنس الأجرة الأولى فإن الزيادة لا تطيب له ويتصدق بها اھ (4/ 425) واللہ اعلم بالصواب
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0