آج کل ایک بحث عام ہے کہ دینی کاموں پر اجرت جائز ہے یا نا جائز اور کیا تراویح پڑھانے والے کو پیسے دینا جائز ہے ؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کا جواب ہیں۔
واضح ہو کہ فی زماننا دینی امور پر اجرت لینا اور دینا دونوں جائز ہیں ۔
جبکہ تراویح میں یہ لینا دینا اگر بطور اجرت ختم قرآن کریم کے موقع پر معروف یا مشروط ہو تب تو بہر دو صورت اس کا شرعاً کوئی جواز نہیں، لینے اور دینے سے احتراز لازم ہے۔
البتہ اگر قاری قرآن اس موقع پر لینے پر سختی کے ساتھ منع کر دے اور پھر کوئی فرد یا افراد اپنے طور پر ختم قرآن کریم کے موقع سے پہلے یا کچھ ایام کے بعد یا اُسی دن ہی بطور ا کرام اُسے کچھ ہدیہ دیدے یا وہ قاری قرآن با ضابطہ امام ہو اور وہ تراویح بھی پڑھا دے تو اس کے لیے بھی اس لینے دینے کی اجازت ہے ۔
كما في الدر المختار: (و) لا لأجل الطاعات مثل (الأذان والحج والإمامة وتعليم القرآن والفقه) ويفتى اليوم بصحتها لتعليم القرآن والفقه والإمامة والأذان. (6/ 55)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله ولا لأجل الطاعات) الأصل أن كل طاعة يختص بها المسلم لا يجوز الاستئجار عليها عندنا لقوله - عليه الصلاة والسلام - «اقرءوا القرآن ولا تأكلوا به» و في آخر ما عهد رسول الله - صلى الله عليه وسلم - إلى عمرو بن العاص «وإن اتخذت مؤذنا فلا تأخذ على الأذان أجرا» ولأن القربة متى حصلت وقعت على العامل ولهذا تتعين أهليته، فلا يجوز له أخذ الأجرة من غيره كما في الصوم والصلاة هداية. (6/ 55)
و في اعلاء السنن: قال: فان اعطی المعلم شیئاً من غیر شرط فظاهر کلام احمد جوازه (وهو قولنا معشر الحنفیة) وبعد سطرین و وجه الاول قول النبی ﷺ: ما أتاك من غیر اشراف نفس ولا مسئلة فخذه وتموله فانه رزق ساقه اللہ إلیك (إلی قوله) ولانه إذا کان بغیر شرط کان هبة مجرده فجاز کما لو لم یعلمه شیئا اھ (۱۶/ ۱۶۹)
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0