کیا ہم اپنی جائیداد یا دکانیں بینک کو کرائے پر دے سکتے ہیں؟ برائے مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
بینک کو اپنی پراپرٹی اور دکان کرایہ پر دینے کی اگرچہ اجازت ہے، مگر جب سودی بینکوں کا سودی معاملات میں ملوث ہونا یقینی ہے تو اس صورت میں ایسے سودی معاملات انجام دینے والے ادارے کو اپنی پراپرٹی یا دکان وغیرہ کرایہ پر دینے سے احتراز لازم ہے کیونکہ یہ اعانت علی المعاصی کے زمرے میں داخل ہوتا ہے۔
كما قال الله تبارك وتعالى: ﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾ (المائدة: 2) ۔
وفي الدر المختار: (و) جاز (إجارة بيت بسواد الكوفة) (إلی قوله) (ليتخذ بيت نار أو كنيسة أو بيعة أو يباع فيه الخمر) وقالا لا ينبغي ذلك لأنه إعانة على المعصية اھ (6/ 392) -
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0