اگر کوئی شخص کسی کمپنی میں مالیات پر مقرّر ہے ،اور سارا حساب کتاب اس کے ذمے ہے ،اور اس حساب کتاب میں کمی آنے کی صورت میں اسے اپنی جیب سے پیسے بھر نے پڑتے ہیں، لیکن اگر اسکے حساب میں کچھ زیادہ پیسے آجائیں، اور کمپنی کا حساب دیکر اس کے پاس کچھ پیسے زائد نکل آتے ہیں، تو کیا اسکے لئے وہ پیسے لینا جائز ہے یا نہیں؟ کیا کیا جائے ؟
بظاہر یہ کمی حساب و کتاب میں کوتاہی کی بناء پر ہوتی ہے، اس لئے حساب و کتاب کے معاملہ میں احتیاط اور توجہ کی اشد ضرورت ہے ، تاہم اس کے باوجود اگر کوتا ہی ہو جائے ،تو کمی کا پورا کرنا تو آپ کے ذمہ ہے ،جبکہ زیادتی پر آپ کا حق نہیں ، الا ّیہ کہ متعلقہ ادارہ باضابطہ اس کمی اور زیادتی کے بارے میں کوئی اصول و ضابطہ بنالے ،تو پھر اس کے موافق عمل ہوگا، ورنہ مالکان کے علم میں لا کر اپنے استعمال میں بھی لا سکتے ہیں۔
وفی مشكاة المصابيح: وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى (2/ 889) ۔
وفيها ايضاً: وعنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «على اليد ما أخذت حتى تؤدي» . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه اھ (2/ 890)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة (إلى قوله) (ولا يضمن ما هلك في يده أو بعمله) كتخريق الثوب من دقه إلا إذا تعمد الفساد فيضمن كالمودع. (6/ 70)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0