کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے کپڑا رنگنے کے لیے کسی فیکٹری میں اجارہ کے طور پر دے دیا، لیکن اتفاق سے اس فیکٹری کے اسی حصے میں آگ لگ گیئ، جس میں مالک فیکٹری کا ذاتی کپڑا بھی موجود تھا، اور دونوں ضائع ہوگئے، یاد رہے کہ مالک فیکٹری نے جس طرح اپنے کپڑے کی حفاظت کی اسی طرح اُن کپڑوں کی حفاظت بھی احسن طریقے سے کی، اب مالک فیکٹری پر ان کپڑوں کی ذمہ داری ہوگی یا نہیں؟ مفصل طریقے سے جواب عنایت فرمائیں۔
اگر صورت مسئولہ میں کپڑوں کو آگ لگنے میں فیکٹری والوں کا کوئی دخل نہ ہو، بلکہ مذکور بیان کے مطابق انہوں نے حتی الامکان کپڑوں کو آگ وغیرہ حوادث سے واقعی حفاظت کی ہو تو مذکور فیکٹری مالکان پر کوئی ضمان لازم نہیں۔
ففي الدر المختار:(ولا يضمن ما هلك في يده وإن شرط عليه الضمان) اھ(6/ 65)۔
وفي حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله ولا يضمن إلخ) اعلم أن الهلاك إما بفعل الأجير أو لا، والأول إما بالتعدي أو لا. والثاني إما أن يمكن الاحتراز عنه أو لا، ففي الأول بقسميه يضمن اتفاقا. وفي ثاني الثاني لا يضمن اتفاقا اھ (6/ 65)۔
وفيھا أیضاً: وحاصل ما في الطوري عن المحيط أن ضمان المشترك ما تلف مقيد بثلاثة شرائط: أن يكون في قدرته رفع ذلك فلو غرقت بموج أو ريح أو صدمة جبل لا يضمن اھ (6/ 67)۔ واللہ أعلم بالصواب!
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0