سوال قرآن کریم میں جو خالی الف (۱) ہوتا ہے، اسکو ہم زبر کے ساتھ پڑھتے ہیں، جیسے النجم الثاقب ( سورت طارق ) التي لم یخلق مثلھافی البلاد ( سورت فجر) لیکن سورت یٰس میں ایک آیت ( اتَّبِعُوا مَنْ لَا يَسْأَلُكُمْ أَجْرًا وَهُمْ مُهْتَدُونَ)اس میں لفظ ( اتبعوا ) کو زیر کے ساتھ پڑھتے ہیں کیوں ؟ یا اس کو زبر کے ساتھ پڑھنا چاہیے یا زیر کے ساتھ؟ رہنمائی فرما دیں۔
واضح ہوکہ یٰس میں مذکورہ آیت(اتَّبِعُوا مَنْ لَا يَسْأَلُكُمْ أَجْرًا وَهُمْ مُهْتَدُونَ)سےاگر ابتداکی جائے توزیر کے ساتھ پڑھا جائیگا ، اور اگر ماقبل آیت کے ساتھ ملاکر پڑھا جائے تو الف نہیں پڑھا جائیگا ، یہ نحوی ایک قاعدہ ہے ، لہذاسائل کو بلاوجہ پریشان ہو نے کی ضرورت نہیں ۔