کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارا تعلق شعبہ نشر و اشاعت سے ہے، جو قرآن کریم اور دیگر اسلامی کتب کی اشاعت کرتے ہیں، موجودہ جدید دور میں نئے نئے تقاضے پیش ہو رہے ہیں، مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ ازروئے شریعت تحقیق کر کے جو قابلِ عمل صورت ہو اسے سر انجام دیا جائے۔
اس وقت مغرب میں یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ قرآن کریم کو رومن (roman) طرز پر چھاپا جائے اور دیگر اذکار اور دعاؤں کو بھی اسی طرز پر شائع کیا جائے، اس وقت مغرب زدہ اسکالرز اور غیر مقلدین اس کام میں لگے ہوئے ہیں اور قرآن کریم اور دیگر اسلامی کتب کو romanمیں ترتیب دے کر اپنے انداز میں عام کر رہے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ لوگ ان کے افکار اور عقائد سے متاثر ہو رہے ہیں ،ان کا اثر بڑھتا جا رہا ہے، میرا سوال یہ ہے:
1۔کیا قرآن کریم کو roman یعنی بسم اللہ bismillah اور پھر انگریزی یا اردو ترجمہ کے ساتھ چھاپنا جائز ہے؟ یعنی قرآن کریم کا اصل متن (roman) ترجمہ ؟
2۔ کیا قرآن کریم رومن اردو یعنی (ب س م اللہ) میں چھاپنا جائز ہے؟ یہ بات کثرت سے مشاہدہ میں آئی ہے کہ اس طرز پر قرآن کریم یا دیگر اسلامی کتب کی نہ صرف مانگ ہے، بلکہ اس سے لوگوں میں قرآن فہمی کا شعور پیدا ہو رہا ہے اور لوگ دین کی طرف راغب بھی ہو رہے ہیں، اس صورتِ حال میں آپ سے گذارش یہ ہے کہ اس مسئلے پر غور وخوض کر کے اگر جواز کی کوئی بھی صورت بنتی ہو تو مطلع فرمائیں تاکہ امتِ مسلمہ اس سے بھر پور استفادہ کر سکے۔
کتابتِ قرآن کریم میں مصحفِ عثمانی کے رسم الخظ کا اتباع لازم ہے، جبکہ سوال میں مذکور دونوں صورتوں میں عثمانی رسم الخط کی رعایت نہیں ہو سکتی، نیز اس طرزِ عمل سے تحریفِ قرآن کا دروازہ کھلنے کا قوی اندیشہ ہے، لہٰذا اس طرح رومن (roman)طرزپر قرآنِ کریم چھاپنا جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
جبکہ لوگوں کو دین اور قرآنِ کریم کی طرف راغب کرنے کے لیے دیگر جائز طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں، محض اپنا حلقہ اَثر اور گروہ بڑھانے کےلیے کسی ناجائز طریقہ استعمال کرنے کی اجازت نہیں۔
اس مسئلہ کی تفصیل جاننے کےلیے جواہر الفقہ جلد دوم مؤلفہ: مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ اور امداد الفتاویٰ (۴/۴۴) کی طرف مراجعت مفید رہے گی۔ واللہ أعلم بالصواب