میں یہاں آسٹریا میں (پی، ایچ، ڈی) کرنے تین سال کے لۓ آئی ہوں ، یہاں پر ۲۰ پاکستانی گھرانے رہتے ہیں اور میں نے ان کے لۓ درسِ قرآن کا پروگرام شروع کیا ہوا ہے ، اس میں پہلے ایک سورت پڑھ کر سناتی ہوں اور پھر اس کی تفسیر بیان کرتی ہوں ، میرے پاس تفسیر کی کوئی کتاب موجود نہیں ہے ، لہٰذا مختلف ویب سائٹز پر جا کر مواد اکھٹا کرتی ہوں ، مثلاً ’’www, alhuda. Com‘‘ (الہدی) وغیرہ ، یہاں پر بعض خواتین کی درخواست ہے کہ میں ان کے لۓ صلاۃ التسبیح کا انتظام کروں ، کیونکہ وہ لوگ پڑھنا نہیں جانتی ، تو معلوم یہ کرنا ہے کہ سب کا ، مل کر صلاۃ التسبیح ادا کرنا ، اس طرح کہ ہر کوئی اپنی علیحدہ نماز سراً پڑھے ، اور ان میں ایک شخص ابتدائی الفاظ کو (تعلیم کی خاطر) جہراً شروع کرے ، تو آیا یہ طریقہ شرعاً جائز ہے کہ نہیں؟ اگر غلط ہے تو براہِ کرم راہ نمائی فرمائیں ، میری دین کے متعلق اتنی معلومات نہیں، لیکن الحمد للہ پانچ وقت کی نمازی ہوں ، اہتمام کے ساتھ وقت پر ادا کرتی ہوں ، اور تلاوت کی پابند ہوں، نیز قرآن کے متعلق زندگی گزارنے کی کوشش کرتی ہوں۔
ہر وہ نماز جس کا جماعت کے ساتھ پڑھنا شرعاً ثابت نہیں، اُسے باجماعت ادا کرنے کا مذکور طریقہ بھی درست نہیں، البتہ محض تعلیم کے لۓ اس طور پر کہ ان کو سکھانا مطلوب ہو ، تو بغیر نیت کے ، نماز کے انداز میں بلاشبہ سکھا سکتی ہیں اور اس طریقے سے سیکھنے کے بعد ہر ایک کا الگ الگ پڑھنا لازم ہے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ ’’الھُدیٰ‘‘ اور اس جیسی دیگر سائٹس سے ، بغیر صحیح علم کے ، راہ نمائی حاصل کرنے سے احتراز چاہیۓ ، کیونکہ یہ نہ صرف آزاد منش اور روشن خیالی کے حاملین کی سائٹس ہیں، بلکہ کئی ایک اجتہادی مسائل میں رائے زنی کے مرتکبین کی سائٹس ہیں ، اس لۓ سب سے بہتر تو یہ تھا کہ پہلے باقاعدہ کسی مستند عالمِ دین سے درسِ تفسیر کا فیض حاصل کیا جاتا اور اس کے بعد اس کی اجازت سے اس سلسلہ کو قائم کیا جاتا ، اس لۓ کہ قرآن کریم خالقِ کائنات کی کتاب ہے، اس میں اپنی رائے قائم کرنا بسا اوقات دائرۂ اسلام سے بھی خارج کر دیتا ہے، جبکہ عام فہم مسائل جن کی ہر خاتون کو روز مرہ ضرورت پڑتی ہے،کا علم بہشتی زیور ، تعلیم الاسلام ، فضائلِ اعمال، تحفۂ خواتین اور تنبیہ الغافلین، جیسی کتب کے مطالعہ سے حاصل کیا جاسکتا ہے اور ان کی آگے تعلیم بھی دی جا سکتی ہے ، اور یہ کتب کسی بھی اسلامی کتب خانہ کی مدد سے حاصل کی جا سکتی ہیں اور سائلہ کو اسی کا اہتمام چاہیۓ۔
فی الدر : و یکره تحریماً جماعة النساء اھ و فی حاشية ابن عابدين : و لو صلين فرادى فقد تسبق إحداهن فتكون صلاة الباقيات نفلا و التنفل بها مكروه اھ (1/ 565)۔