حدیث سے نصِ قرآنی منسوخ ہوسکتی ہے یا نہیں؟ دلیل دے کر ممنون فرمائیں۔
جی ہاں! حدیثِ متواترہ سے نصِّ قرآنی منسوخ ہوسکتی ہے اور یہی جمہور علماء کا مذہب ہے، جن میں احناف بھی داخل ہیں، اور دلیل ان حضرات کی یہ ہے کہ چاہے آیتِ قرآنیہ ہو یا حدیثِ متواترہ دونوں اللہ کی طرف سے وحی ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ قرآن کی آیت وحی متلو ہے اور حدیثِ متواترہ وحی غیرمتلو، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰی اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی﴾
اور قرآن پاک کے کئی احکامات کا حدیث مبارکہ سے منسوخ ہونا ثابت ہے، جیسے قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے [ترجمہ: جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت قریب ہو اور اُس کا کچھ ترکہ وغیرہ بھی ہو تو اس کو اپنے والدین کیلیے اور اقرباء کیلیے وصیت کرنا لازم ہے]۔ اور ابتداء اسلام میں اسی حکم پر عمل ہوتا تھا، مگر حدیثِ متواترہ میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ’’وارث کیلیے کوئی وصیت نہیں‘‘۔ چنانچہ اس حدیثِ متواترہ سے مذکورہ آیت کاحکم منسوخ ہوا ہے، خود قرآنِ کریم میں اس کے نسخ کی کوئی آیت نہیں۔
ففی تبیان فی علوم القرآن: وذهب الجمہور الی جواز نسخ القرآن بالقرآن وبالسنة المطہرة، لان الکل حکم اللہ تعالی ومن عندہ، ولکل یوحی من اللہ عزوجل: وما ینطق عن الہوی ان هو الا وحی یوحی وجحته الجمہور ما ورد من نسخ اٰية الوصية بحدیث (ان اللہ اعطی کل ذی حق حقه، الا لا وصية لوارث) (ص:95) واللہ اعلم بالصواب!