کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا قرآنی آیات یا اسماء ِحسنیٰ کے غالیچے اور کتبے گھر کے کمروں، سکولوں ، معاشرتی و تجارتی جگہوں میں بطورِ برکت یا سجاوٹ کے لٹکانا جائز ہے؟ کیونکہ اس میں چند خرایباں محسوس کرتا ہوں ، جو یہ ہیں:
۱۔ یہ عمل صحابہ کرام کے عمل کے خلاف ہے ، کیونکہ قرآن پاک کا نزول اس غرض کے لیے نہیں ہوا تھا، کہ اس سے سجاوٹ حاصل کی جائے۔
۲۔ بہت سے کتبے سونے کے بنائے جاتے ہیں، جو حرام ہے اور قرآن کے الفاظ کو ٹیڑھا کر کے بلکہ ذی روح کی شکل بنا کر لکھتے ہیں جو کہ صحیح نہیں ہے ، پھر اس کی تجارت بھی ہوتی ہے جو کہ قرآن کی عظمت کے مناسب نہیں۔
۳۔ تبدیلی مکان کے وقت ان کتبوں کی تعظیم کو ملحوظ نہیں رکھا جاتا، اس طرح ان کی بدتعظیمی ہوتی ہے ، براہِ کرم شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
بلاشبہ قرآنِ کریم کا نزول عمل کے لیے ہے، نہ کہ سجاوٹ اور برکت کے لیے، اس سے احتراز چاہیے، تاہم اگر قرآنی آیات و کلمات کے نقوش (خواہ کسی کاغذ و دھات پر ہوں یا قالین نما کپڑے وغیرہ پر) کا خوبصورتی سجاوٹ اور خیر و برکت کے لیے کسی گھر ، دفتر ، اسکول یا تجارتی جگہ وغیرہ میں لٹکانا اور اسی طرح سونے یا چاندی سے مزین اور خوبصورت انداز میں لکھن ا، جبکہ ذی روح کی شکل میں نہ ہو ، شرعاً ممنوع بھی نہیں، بلکہ جائز اور درست ہے۔ بشرطیکہ تعظیم ملحوظ رکھی جائے اور یہ کہ جس جگہ ٹی وی چلایا جاتا ہو یا تصویر اور اس قسم کی خرافات ہوں وہاں مذکور عمل سے احتراز لازم اور واجب ہے۔
فی الدر المختار : بساط أو غيره كتب عليه "الملك لله" يكره بسطه و استعماله لا تعليقه للزينة قلت : و ظاهر انتفاء الكراهة بمجرد تعظيمه و حفظه علق أو لا ، زين به أو لا، و هل ما يكتب على المراوح و جدر الجوامع كذا ؟ يحرر اھ
و فی الفتاویٰ الشامية : (قوله: مطلقا) أي سواء استعمل أو علق . (قوله: قلت و ظاهره إلخ) كذا يوجد في بعض النسخ أي ظاهر قوله لا تعليقه للزينة .
(قوله: يحرر) أقول : في فتح القدير : و تكره كتابة القرآن و أسماء الله تعالى على الدراهم و المحاريب و الجدران و ما يفرش اھ(1/ 179،178)۔
و فی الفتاویٰ الهندية : رجل أمسك المصحف في بيته ، و لا يقرأ قالوا : إن نوى به الخير و البركة لا يأثم بل يرجى له الثواب ، كذا في فتاوى قاضي خان اھ(5/ 322)۔