قرآن سے متعلق احکامات

’’ض‘‘ کامخرج اور اس کےپڑھنے سے متعلق متعدد سوالات

فتوی نمبر :
60782
| تاریخ :
2014-04-20
قرآن و حدیث / تفسیر و احکام القرآن / قرآن سے متعلق احکامات

’’ض‘‘ کامخرج اور اس کےپڑھنے سے متعلق متعدد سوالات

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ راقم الحروف کو تو استاد نے فنِ تجوید کی کتابوں میں درج مخارج کے مطابق حرف ’’ض‘‘ کا مخرج مستقل علیحدہ سمجھایا، پڑھایا تھا (اس کی مشق کرائی تھی) جو ’’دال اور ظا‘‘ سے قطعاً مختلف تھا، نیز جو مشکل ہونے کے باوجود ناممکن نہیں ہے، چونکہ اردو زبان کے حروف،حروفِ تہجی کی طرح ہی ہیں ، لیکن پڑھے جانے میں یکسر مختلف ہیں ، شاید اسی وجہ سے ہمارے علاقوں میں عربی نہ جاننے والے اردو دانوں اور ان پڑھ بوڑھی عورتوں نے ’’ض‘‘ کو ’’دال‘‘ کے مشابہ پڑھنا شروع کر دیا، بعض ائمہ مساجد بھی اس طرزپر پڑھا کرتے تھے جن کی رحلت کے بعد ان کا یہ طرز بھی کم از کم شہری علاقوں میں ان کے ساتھ مدفون ہو چکا تھا۔
مرورِ زمانے کے ساتھ ساتھ ہمارے علاقوں میں خصوصاً اور شاید دنیا بھر میں عموماً موجود حرمین کا لہجہ آیا ،جسے خاص طور پرائمہ مساجد نے اپنا لیا ہے، اس طرزِ قرأت کی اہم چیز یہ ہے کہ اس میں سورۃ فاتحہ میں موجود دونوں ’’ض‘‘ دال کے مشابہ سنائی دیتے ہیں، یہی ائمہ مساجد قرآن کریم میں دیگر جگہوں پر موجود حرف ’’ض‘‘ کو اکثر اس کے مخرج کے مطابق ہی پڑھتے ہیں، بعض عامی حضرات ہر ’’ض‘‘ کو دال کے مشابہ بھی پڑھتے ہیں۔
مندرجہ بالا زمینی حقیقت کے تناظر میں درجِ ذیل اشکالات کے حل کے لیے راہنمائی کی ضرورت ہے:
۱۔ کیا مرورِ زمانہ کے ساتھ حرف ’’ض‘‘ کا مخرج تبدیل ہوگیا ہے؟
۲۔ کیا مختلف سات عربی حروف میں نازل ہونے والے قرآن کے کسی حرف میں ’’ض‘‘ دال کے مشابہ ہے؟
۳۔ کیا فنِ تجوید کی کتابوں میں درج مخرج کے خلاف مخرج کو اپنا لینا تحریف کے زمرے میں تو نہیں آتا؟
۴۔ اس مخرج کو صرف سورۃ فاتحہ میں اپنانے کی کیاتوجیہ کی جا سکتی ہے؟
۵۔ کیا اس کو لحنِ جلی میں داخل کیا جا سکتا ہے؟ جیسا کہ اس سے پہلے کے دور میں مجہول قرار دیتے ہوئے داخل کیا گیا تھا۔
۶۔ نماز کی صحت پر اس کے کیا اثرات واقع ہوتے ہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

۱تا ۵۔ حرفِ ضاد کا مخرج زبان کی کروٹ اور دائیں یا بائیں داڑھیں ہیں اور یہ اپنے اس مخرج اور مخصوص صفات کے اعتبار سے بالکل الگ اور جدا حرف ہےاور مرورِ زمانہ یا کسی شخص کی مخصوص ادائیگی کی وجہ سے اس کا مخرج بھی متأثر نہیں ہوتا، جبکہ اس حرف کو اگر قواعد کے مطابق اپنے مخرج سے تمام صفات کی رعایت کرتے ہوئے ادا کیا جائے تو اس کی آواز ظاء سے مشابہ معلوم ہوتی ہے نہ دال کے، جبکہ ظاء سے مشابہت بھی بعض صفات میں مشارکت کی وجہ سے محض صوتی ہے، اب اگر کوئی شخص کوشش کے باوجود اس کی ادائیگی ایسی کرے کہ آواز دال وغیرہ کسی حرف جیسی معلوم ہونے لگے تو یہ شرعاً تحریف کے زمرے میں بھی نہیں آتا، البتہ ادائیگی کی غلطی یا فنِ تجوید سے ناواقفیت کہلا ئی جاسکتی ہے اور قصداً حرفِ ’’ضاد‘‘ کو دال پڑھنا بلاشبہ لحنِ جلی ہے، جبکہ اس اختلاف کو صرف فاتحہ کے ساتھ تخصیص کی کوئی توجیہ نہیں۔
۶۔ جہاں تک صحتِ صلوٰۃ کا مسئلہ ہے تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کوشش کے ساتھ قرآن شریف کے اس حرف کی ادائیگی کرے اور اس کا مقصود اس حرف یا کسی بھی حرفِ قرآنی کی صحتِ اداء ہو تو اس کوشش کے باوجود چاہے سننے والے کو کچھ بھی سنائی دے نماز درست ادا ہوجائیگی، جبکہ صحتِ اداء پر قدرت کے باوجود قصداً ایک حرف کی جگہ دوسرا پڑھ دینے سے نماز صحیح نہ ہوگی، مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آدمی حروف کی صحتِ اداء سے غافل ہوجائے، بلکہ تجوید کی درستگی کی بدستور کوشش جاری رکھے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی التمهيد في علم التجويد: وأما الضاد: فتقدم الكلام على أنها تخرج من المخرج الرابع من مخارج الفم، من أول حافة اللسان وما يليه من الأضراس، وهي مهجورة رخوة مطبقة مستعلية مستطيلة. واعلم أن هذا الحرف ليس من الحروف حرف يعسر على اللسان غيره، والناس يتفاضلون في النطق به.
فمنهم من يجعله ظاء مطلقاً، لأنه يشارك الظاء في صفاتها كلها، ويزيد عليها بالاستطالة، فلو لا الاستطالة و اختلاف المخرجين لكانت ظاء، وهم أكثر الشاميين وبعض أهل المشرق. وهذا لا يجوز في كلام الله تعالى، لمخالفة المعنى الذي أراد الله تعالى الخ (ص: 130)۔
و فی النشر في القراءات العشر: الْمَخْرَجُ الثَّامِنُ - لِلضَّادِ الْمُعْجَمَةِ - مِنْ أَوَّلِ حَافَّةِ اللِّسَانِ وَمَا يَلِيهِ مِنَ الْأَضْرَاسِ مِنَ الْجَانِبِ الْأَيْسَرِ عِنْدَ الْأَكْثَرِ، وَمِنَ الْأَيْمَنِ عِنْدَ الْأَقَلِّ الخ(1/ 200)۔
و فی الإتقان في علوم القرآن: الثَّامِنُ: لِلضَّادِ الْمُعْجَمَةِ مِنْ أَوَّلِ حَافَّةِ اللِّسَانِ وَمَا يَلِيهِ مِنَ الْأَضْرَاسِ مِنَ الْجَانِبِ الْأَيْسَرِ وَقِيلَ الْأَيْمَنِ. التَّاسِعُ: اللَّامُ مِنْ حَافَةِ اللِّسَانِ مِنْ أَدْنَاهَا إِلَى مُنْتَهَى طَرَفِهِ وَمَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ مَا يَلِيهَا مِنَ الْحَنَكِ الْأَعْلَى. (1/ 348)
و فی الوجيز في حكم تجويد الكتاب العزيز: ينقسم اللحن إلى قسمين: لحن جلي: أي ظاهر. وخفي: أي مستتر ولكل واحد منهما حدّ يخصه، وحقيقة بها يمتاز عن صاحبه. القسم الأول: اللحن الجلي: وهو خلل يطرأ على الألفاظ فيخل بعرف القراءة سواء أخل بالمعنى أم لم يخل، وهذا النوع من اللحن قد يكون في بنية الكلمة وحروفها التي تتركب منها، بأن يبدل القارئ منها حرفاً بآخر، فيبدل الضاد ظاء، والذال زاياً، والثاء سيناً، والغين خاءً، ونحو ذلك. (ص: 61)
و فی حاشية ابن عابدين: وإن كان الخطأ بإبدال حرف بحرف، فإن أمكن الفصل بينهما بلا كلفة كالصاد مع الطاء بأن قرأ الطالحات مكان الصالحات فاتفقوا على أنه مفسد، وإن لم يمكن إلا بمشقة كالظاء مع الضاد والصاد مع السين فأكثرهم على عدم الفساد لعموم البلوى. وبعضهم يعتبر عسر الفصل بين الحرفين وعدمه. وبعضهم قرب المخرج وعدمه الخ (1/ 631)۔
و فیه أیضاً: وفي خزانة الأكمل قال القاضي أبو عاصم: إن تعمد ذلك تفسد، وإن جرى على لسانه أو لا يعرف التمييز لا تفسد، و هو المختار حلية و في البزازية: وهو أعدل الأقاويل، وهو المختار اهـ و في التتارخانية عن الحاوي: حكى عن الصفار أنه كان يقول: الخطأ إذا دخل في الحروف لا يفسد لأن فيه بلوى عامة الناس لأنهم لا يقيمون الحروف إلا بمشقة. اهـ. وفيها: إذا لم يكن بين الحرفين اتحاد المخرج و لا قربه إلا أن فيه بلوى العامة كالذال مكان الصاد أو الزاي المحض مكان الذال و الظاء مكان الضاد لا تفسد عند بعض المشايخ. اهـ. (1/ 633)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60782کی تصدیق کریں
1     1689
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • درمیان سورہ توبہ سے تلاوت شروع کرتے ہوئے بسم اللہ پڑھنا

    یونیکوڈ   اسکین   قرآن سے متعلق احکامات 0
  • سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا

    یونیکوڈ   قرآن سے متعلق احکامات 0
  • قرآن کریم میں آیات کی تعداد

    یونیکوڈ   قرآن سے متعلق احکامات 1
  • قرآن کو قطعی الثبوت اور حدیث ظنی الثبوت کیوں کہتے ہیں؟

    یونیکوڈ   قرآن سے متعلق احکامات 0
  • تفسیرِ ماجدی اور تفسیرِ عثمانی پر تبصرہ

    یونیکوڈ   قرآن سے متعلق احکامات 1
  • محکمات ومتشابہات اور حروف مقطعات سے متعلق حکم

    یونیکوڈ   قرآن سے متعلق احکامات 0
  • حدیث سے نصِ قرآنی منسوخ ہو سکتی ہے یا نہیں؟

    یونیکوڈ   قرآن سے متعلق احکامات 0
  • بسم اللہ کی جگہ ’’۷۸۶‘‘ لکھنا

    یونیکوڈ   قرآن سے متعلق احکامات 0
  • قرآن کس طرح تجوید سے پڑھ سکتے ہیں -قلب و نظر کی حفاظت کا طریقہ

    یونیکوڈ   قرآن سے متعلق احکامات 0
  • قرآن کریم میں آیتوں کی تعداد

    یونیکوڈ   قرآن سے متعلق احکامات 0
  • قرآن کریم کو رومن طرز پر لکھنا اور چھاپنا

    یونیکوڈ   قرآن سے متعلق احکامات 0
  • اللہ کا انکار کرنے کی وجہ سے قتل کرنے کے بارے میں کوئی آیت

    یونیکوڈ   قرآن سے متعلق احکامات 0
  • بذاتِ خود علم حاصل کیے بغیر ، الھدی انٹرنیشنل و دیگر ویب سسائٹس سےدرسِ قرآن دینا

    یونیکوڈ   قرآن سے متعلق احکامات 0
  • قرآنِ کریم حفظ کر کے بھول جانا

    یونیکوڈ   قرآن سے متعلق احکامات 1
  • سورۃ فاتحہ سے متعلق چند سوالات

    یونیکوڈ   قرآن سے متعلق احکامات 0
  • ’’ض‘‘ کامخرج اور اس کےپڑھنے سے متعلق متعدد سوالات

    یونیکوڈ   قرآن سے متعلق احکامات 1
  • دورانِ تلاوت عورت کا سر ڈھانپنا

    یونیکوڈ   قرآن سے متعلق احکامات 0
  • گھر میں لگی آگ کے اندر قرآن کریم اور سورۃ یٰس وغیرہ کا جل جانا

    یونیکوڈ   قرآن سے متعلق احکامات 0
  • تلاوتِ قرآن کے اختتام پر کن کلمات کا کہنا مسنون ہے؟

    یونیکوڈ   قرآن سے متعلق احکامات 0
  • کیا زندگی کے تمام مسائل کا حل قرآن میں موجود ہے؟

    یونیکوڈ   قرآن سے متعلق احکامات 0
  • ہندو کو قرآن پڑھانے اور اس کے ہاتھ میں قرآن دینے کا حکم

    یونیکوڈ   قرآن سے متعلق احکامات 0
  • قرآنی آیات اور اسماءِ حسنیٰ کے کتبے گھروں وغیرہ میں بطورِ برکت اور سجاوٹ کے لٹکانا

    یونیکوڈ   قرآن سے متعلق احکامات 1
  • قرآن کریم یاد کرکے بھول جانا

    یونیکوڈ   قرآن سے متعلق احکامات 1
  • قرآنی آیت یا دیگر اذکار کو بطور فون ٹونز استعمال کرنا

    یونیکوڈ   قرآن سے متعلق احکامات 0
  • سورۃ کہف کی آیت نمبر۳۹ ’’لاحول‘‘ کے اضافہ کے ساتھ لکھنا

    یونیکوڈ   قرآن سے متعلق احکامات 0
Related Topics متعلقه موضوعات