(۱) کیا قرآن کریم میں مسلم یا غیر مسلم کو اللہ کا انکار کرنے کی وجہ سے قتل کرنے کے بارے میں کوئی آیت ہے؟ کیا قرآن کریم میں معاف کرنے کی فضیلت کی تلقین کے بارے میں کوئی آیت ہے؟
(۲) اسلام کسی مسلمان پر شک کرنے کی اجازت نہیں دیتا، جبکہ وہ مسلمان ہونے کا دعویٰ کرے۔ یعنی اگر کوئی دعویٰ کرے کہ وہ مسلمان ہے تو کسی کیلئے اس کو چیلنج کرنا درست ہے؟ براہِ مہربانی مناسب آیت کا حوالہ دیں۔
(۱) قرآن کریم میں مرتد اور حربی کافر کے قتل اور لوگوں کو معاف کرنے کے بارے میں واضح آیات موجود ہیں، مگر قتل جیسی عظیم سزا کا عام عوام کو اختیار نہیں۔
(۲) کسی کے مسلمان کے دعوے کے بعد بلا وجہ اس پر شک کرنے اور اُسے کافر قرار دینے کا کسی کو اختیار نہیں، اِلّا یہ کہ وہ منافی اسلام کام کرنے لگے اور کفریہ حرکات کرے تو وہ کافر ہے۔
قال اللہ تعالی في القرآن الکریم: قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ ۔ (التوبة:۲۹)۔
وقال تعالی: وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ كَافَّةً كَمَا يُقَاتِلُونَكُمْ كَافَّةً ۔ الآية(التوبة:۳۶)۔
وقال تعالی: فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَان ۔ الآية (التوبة:۱۷۸)۔
وقال تعالی: فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِين ۔ الآية۔ (الشوری:۴۰)۔
وفی الفقه الإسلامي وأدلته: التعزير كالحدود منوط بالإمام، وليس لأحد حق التعزير(7/ 5606)
وقال تعالی: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا ۔الآية (النساء:۹۴) واللہ اعلم بالصواب!