مذکورہ مسئلہ میں عرب حضرات بہت اختلاف کرتے ہیں کہ قرآن پڑھتے وقت سرکو ڈھانکنے کا کیا حکم ہے؟ کیونکہ میں الریاض کے اندر عرب بچیوں اور عورتوں کو پڑھاتی ہوں، اس وجہ سے وہ پوچھتے ہیں کہ یہ حکم کہاں سے ثابت ہے؟ نیز اس مسئلہ میں چاروں ائمہ کے مفتی بہ اقوال اور معمول بہ حکم کتب کے حوالے کیساتھ بیان فرمائیں ۔
قرآن کریم کی تلاوت و تعلیم کے وقت پاک صاف اور اچھی حالت میں ہونا ، جس میں حسبِ تصریحِ فقہاء ، تعظیمِ قرآن کے پیش نظر مرد کا عمامہ باندھنا (جبکہ عورت کا دوپٹہ لینا عمامہ کے تحت آجاتا ہے)قرآن کے آداب میں سے ہے اور حسبِ استطاعت احسنِ احوال ، تعظیم اور ادب کا پہلو اختیار کرنا واجب ہے، اس لۓ اس کا اہتمام چاہیۓ ۔
ففی الھندية : رجل أراد أن يقرأ القرآن فينبغي أن يكون على أحسن أحواله يلبس صالح ثيابه و يتعمم و يستقبل القبلة ؛ لأن تعظيم القرآن و الفقه واجب ، كذا في فتاوى قاضي خان.(5/316)۔
و في المحيط البرهاني في الفقه النعماني : قالوا : من أراد أن يقرأ القرآن ينبغي أن يكون على أحسن أحواله ، يلبس أحسن ثيابه و يتعمم، و يستقبل القبلة ، تعظيماً للقرآن ، و كذا العالم يجب أن يعظم العلم .اھ(10/ 112)۔