السلام علیکم !
میرا ایک سوال ہے کہ کیا یہ کتاب رہنما ہے کہ ہر چیز اس کتاب میں ہو ؟مثلاً زندگی کس طرح گزارنی چاہیۓ؟زندگی کے تمام مسائل کا حل اس میں موجود ہے ؟کچھ شیعہ کا خیال ہے کہ یہ مکمل کتاب نہیں ہے، میرے علم کے مطابق حضور ﷺ نے تمام زندگی اس کتاب کے ذریعے گزاری ،شیعہ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ کا سنگسار کرنا شادی شدہ کا ،زنا کے لۓ وغیرہ ، کیا یہ درست ہے ؟ اگر درست ہے تو یہ حکم قرآن مجید میں ہونا چاہیۓ ، لیکن میرے خیال میں حضور ﷺ کی شخصیت ایسا کرنے والی نہیں تھی ۔
اہلِ سنت و الجماعت کے نزدیک نبی کریم ﷺ پر جو کچھ وحیِ متلوّ ، یعنی قرآن کریم کی شکل میں اترا ، وہ مشعلِ راہ اور دلیل ہے ، اسی طرح آپ ﷺ پر وحیِ غیر متلوّ کے ذریعہ جو کچھ اترا ہے، وہ بھی دلیل اور منجانب اللہ ہے اور مذکور حکم اگرچہ قرآن میں صراحۃً مذکور نہ بھی ہو مگر اس کا متواتر احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہونا ہی منجانب اللہ ہونے کیلۓ کافی ہے، اس لۓ قرآن میں اس کے موجود نہ ہونے کو قرآن کا نقص قرار دینا جہالت پر مبنی ہے، کیونکہ قرآن کا کمال یہ ہے کہ اس میں قیامت تک پیش آمدہ مسائل کے کلیات موجود ہیں، نہ کہ ہر جزئی کا حکم ، ورنہ اس میں رجم ہی کی کیا تخصیص ہے؟ جبکہ نبی کریم ﷺ سے متعلق سائل کا مذکور خیال بھی درست نہیں، کیونکہ آپ اگرچہ نرم خو تھے ، مگر احکامِ الٰہیہ پر سختی سے کاربند تھے، نیز اس سزا کو سخت قرار دینا زنا جیسے قبیح ترین اور گناہِ کبیرہ فعل کو ہلکا سمجھنے کے مترادف ہے جس سے احتراز لازم ہے۔
في الفقه الإسلامي و أدلته : اتفق العلماء ما عدا الخوارج على أن حد الزاني المحصن هو الرجم ، بدليل ما ثبت في السنة المتواترة و إجماع الأمة ، و المعقول أما السنة فكثير من الأحاديث : منها قوله عليه الصلاة و السلام: «لا يحل دم امرئ مسلم إلا بإحدى ثلاث : الثيب الزاني ، و النفس بالنفس ، و التارك لدينه المفارق للجماعة» و منها قصة العسيف الذي زنى بامرأة ، فقال الرسول عليه الصلاة و السلام لرجل من أسلم: «و اغد يا أنيس إلى امرأة هذا ، فإن اعترفت فارجمها و قصة ماعز التي وردت من جهات مختلفة ، فقد اعترف بالزنا فأمر الرسول عليه السلام برجمه . و قصة الغامدية التي أقرت بالزنا فرجمها الرسول صلى الله عليه و سلم بعد أن وضعت. و أجمعت الأمة على مشروعية الرجم ، و لأن المعقول يوجب مثل هذا العقاب ؛ لأن زنا المحصن غاية في القبح ، فيجازى بما هو غاية من العقوبات الدنيوية اھ(7/ 307)۔