کیا فرماتے ہیں مفتیانِِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بندہ کو ایک مسئلہ درپیش ہے آپ حضرات سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ مسئلہ کی وضاحت فرما کر ثوابِ دارین حاصل کریں۔
(1)۔مسئلہ یہ ہے کہ کچھ دنوں پہلے ہمارا ایک گھر جل کر خاک ہوگیا ، اس گھر میں ایک قرآن پاک اور قاعدہ اور سورۃ یٰس بھی پڑا ہوا تھا ، اس گھر کے جلنے سے قرآن پاک ،سورۃ یٰس وغیرہ بھی جل کر شہید ہوگئے ، تو اب آپ اس مسئلہ کے بارے میں وضاحت فرمائیں کہ قرآن پاک اور سورۃ یٰس کے جل جانے پر کوئی کفارہ و غیرہ لازم ہے یا نہیں؟
(2)۔ اگر کسی شخص نے جنازہ کی نماز غلط پڑھا دی تو کیا اس غلطی کی بنا پر اس میت کو عذابِ قبر ہوتا ہے ؟ اور اگر کسی نے جنازہ کی نماز غلط پڑھا دی تو اب کیا کرنا ہوگا۔
(1)۔ جب ان متبرک کتب کے جلنے میں سائل کا واقعۃً کوئی عمل دخل نہیں تو اس سے وہ گناہ گار بھی نہیں ہوا اور اس پر کسی قسم کا کفارہ بھی نہیں ، البتہ ندامتِ قلب کے ساتھ توبہ و استغفار کا اہتمام ہو جائے تو بہتر ہے ۔
(2)۔ اگر اس غلط پڑھانے سے مراد درودشریف اور دعا وغیرہ میں غلطی ہوجانا مراد ہو تو اس سے نمازِ جنازہ کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑا بشرطیکہ چار تکبیریں ادا کردی گئی ہوں، ورنہ مکمل تفصیل لکھ کر حکمِ شرعی معلوم کرنے کیلۓ دوبارہ سوال ارسال کردیں۔
فی الدر : و رکنھا التکبیرات و القیام و سنتھا ثلٰثة التحمید و الثناء و الدعاء فیھا ذکرہ الزاھدی اھ(2/209)۔
و في المبسوط للسرخسي : (قال): و إذا صلوا على جنازة و الإمام غير طاهر فعليهم إعادة الصلاة لأن صلاة الإمام فاسدة لعدم الطهارة فتفسد صلاة القوم بفساد صلاته و إن كان الإمام طاهرا و القوم على غير طهارة لم يكن عليهم إعادتها لأن صلاة الإمام قد صحت و حق الميت به تأدى فالجماعة ليست بشرط في الصلاة على الجنازة۔
(قال) و إذا أخطئوا القبلة جازت صلاتهم يعني إذا صلوا بالتحري و إن تعمدوا خلافها لم تجز على قياس سائر الصلوات فإنها في وجوب استقبال القبلة كسائر الصلوات اھ(2/ 68)۔
و فی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع : و أما بعد ثلاثة أيام لا يصلى ؛ لأن الصلاة مشروعة على البدن و بعد مضي الثلاث ينشق و يتفرق فلا يبقى البدن و هذا لأن في المدة القليلة لا يتفرق و في الكثيرة يتفرق ، فجعلت الثلاث في حد الكثرة ؛ لأنها جمع و الجمع ثبت بالكثرة ؛ و لأن العبرة للمعتاد و الغالب في العادة أن بمضي الثلاث يتفسخ و يتفرق أعضاؤه اھ(1/ 315)۔
و فی تفسير ابن عطية : قال ذلك قتادة و السدي و الربيع بن أنس و ابن زيد و غيرهم، و قالت جماعة من أهل العلم : لا نسخ في شيء من هذا ، و هذه الآيات متفقات ، فمعنى هذه : اتقوا الله حقّ تقاته فيما استطعتم، و ذلك أن حَقَّ تُقاتِهِ هو بحسب أوامره و نواهيه، و قد جعل تعالى الدين يسرا ، و هذا هو القول الصحيح ، و ألا يعصي ابن آدم جملة لا في صغيرة ولا في كبيرة ، وألا يفتر في العبادة أمر متعذر في جبلة البشر، و لو كلف الله هذا لكان تكليف ما لا يطاق اھ(1/ 483)۔