رسول اللہ کیا کہا کرتے تھے جب وہ قرآن کی تلاوت مکمل کرلیتے تھے؟ کیا وہ تلاوت کو سورۃ الصافات کی سینتیسویں آیات پر ختم کرتے تھے یا وہ فرماتے تھے ’’سبحانک اللھم و بحمدک أشھد أن لاالٰہ إلا أنت أستغفرک و أتوب الیک‘‘ اول کےلۓ کسی سے سنا ہے کہ رسول اللہ کہا کرتے تھے کہ تلاوتِ قرآن کو اس طرح ختم کرنا چاہیۓ ، دوسری کے بارے میں رسولؐ اللہ اس کو قرآن کی تلاوت کے بعد پڑھا کرتے تھے، کیا یہ درست ہے؟
سوال میں مذکور دعائیہ کلمات کا کسی بھی مجلس کے اختتام پر پڑھنا ایک مستحب عمل ہے ، جس کا اہتمام باعثِ اجر و ثواب ہے ، جبکہ اختتامِ تلاوتِ قرآن کریم کے موقع پر اس کے علاوہ دیگر ادعیہ کا پڑھنا ثابت ہے، جیسا کہ کنز العمال کی درجِ ذیل روایت سے بھی بخوبی معلوم ہورہا ہے ۔
فی کنز العمال : عن زر بن حبيش1 قال: "قرأت القرآن من أوله إلى آخره على علي بن أبي طالب ، فلما بلغت الحواميم قال : لقد بلغت عرائس القرآن ، فلما بلغت رأس ثنتين و عشرين آية من حمعسق {وَ الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فِي رَوْضَاتِ الْجَنَّاتِ} الآية بكى حتى ارتفع نحيبه ، ثم رفع رأسه إلى السماء و قال : يا زر أمن على دعائي ، ثم قال: اللهم إني أسألك إخبات المخبتين ، و إخلاص الموقنين ، و مرافقة الأبرار و استحقاق حقائق الإيمان ، و الغنيمة من كل بر و السلامة من كل إثم و وجوب رحمتك، و عزائم مغفرتك ، و الفوز بالجنة ، و النجاة من النار "يا زر إذا ختمت فادع بهذه فإن حبيبي رسول الله صلى الله عليه و سلم أمرني أن أدعو بهن عند ختم القرآن". "ابن النجار"1.
(2/153)۔