قرآن شریف عمومی طور پر پابندیوں اور اقتدار کی باتیں کرتا ہے، لیکن ابتدائی سورۃ (فاتحہ) میں یہ بات کرتا ہے ایسے راستے کی ، جو فلاح کا ہے تو ہم کس طرح دوسری چیزوں کی کوشش کریں جب ہم انکے تصور سے موافق ہی نہیں۔ سوال یہ ہے:
۱۔ وہ کون تھے جو بخشے گئے؟
۲۔ ہم کہاں اس راہ کو تلاش کریں جس پر لکھا ہو بہتر ہے؟
۳۔ کیا کوئی ایسی کتاب ہے جو مبہم طریقے سے بھی اس راہ کی راہنمائی کریں جو اُس قرآن کی آیت کے قریب ہو ، براہ ِکرم قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
بسا اوقات قرآنِ کریم کی بعض آیات دوسری بعض آیات کی وضاحت اور تفسیر کرتی ہیں، جیسا کہ سورۃ فاتحہ میں جن لوگوں کے ہدایت یافتہ ہونے اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی ترغیب دی گئی ہے، اُن سے مراد حضرات انبیاء ِ کرام، صدیقین، شہداء اور صالحین ہیں جیسا کہ سورۃ نساء کی آیت نمبر ۶۹ میں درج ہے۔
اسی طرح احادیث ِمبارکہ بھی قرآن کریم کی تفسیر کرتی ہیں ، ان امور کے جاننے کے لیے علمِ حدیث و تفسیر کا جاننا ضروری ہے، لہٰذا کسی شخص کا بغیر علم کے یہ کہنا قطعاً غلط ہوگا کہ صراطِ مستقیم معلوم نہیں یا بخشے ہوئے لوگ کون تھے وغیرہ۔
اس کے بعد واضح ہو کہ آپ کے سوال کے تیسرے جزو کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا کہ اس سے آپ کی کیا مراد ہے براہِ کرم اس کی مکمل وضاحت لکھ کر اس سوال کو دوبارہ دارالافتاء ای میل کر دیں، انشاء اللہ تعالیٰ حکمِ شرعی سے آگاہ کردیا جائے گا۔
ففی تفسیر الخازن تحت قوله تعالی: ((صراط الذین انعمت علیہم)) صراط الذين أنعمت عليهم هذا بدل من الأول، أي الذين مننت عليهم بالهداية و التوفيق، و هم الأنبياء و المؤمنين الذين ذكرهم الله تعالى في قوله: (فأولئك مع الذين أنعم الله عليهم من النبيين و الصديقين و الشهداء و الصالحين) اھ (1/23)۔
و فی تفسیر القرطبی: و اختلف الناس في المنعم عليهم ، فقال الجمهور من المفسرين : إنه أراد صراط النبيين و الصديقين و الشهداء و الصالحين. و انتزعوا ذلك من قوله تعالى: ﴿وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَ الصِّدِّيقِينَ وَ الشُّهَدَاءِ وَ الصَّالِحِينَ وَ حَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقاً﴾ (النساء: 69). فالآية تقتضي أن هؤلاء على صراط مستقيم ، و هو المطلوب في آية الحمد و جميع ما قيل، إلى هذا يرجع ، فلا معنى لتعديد الأقوال و الله المستعان اھ (1/149)۔