(۱) ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ اور اولیاء اپنی قبور مبارک میں حیات ہیں اور زائرین کے سلام کو سن رہے ہیں اور جواب دے رہے ہیں، میرا سوال یہ ہے کہ اگر ایک شخص کسی بزرگ کے قبر کے کاموں میں لگا رہتا ہے، مثلاً: قبر کی زیارت کے دوران زائرین کی طرف سے ان کی حاجات کیلیے اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے حضور دعا کرتے ہیں، کیا ایسا کرنے میں کوئی غلط کام ہے؟
(۲) جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا ہے کہ قرآن دو قسم کی آیات پر مشتمل ہے: محکمات، متشابہات۔ کیا ہمارے گزشتہ علماء و مفسرین حضرات میں سے کسی نے ان کے درمیان فرق بیان کیا ہے کہ کون کون سی آیات محکمات ہیں اور کون کون سی متشابہات؟
(۳) قرآنِ کریم میں بعض سورتوں کی ابتداء میں مختلف الفاظ مشترک ہیں مثلاً: الٓمٓ، کیا نبی کریم ﷺ نے ان الفاظ کے معانی بیان فرمائے ہیں؟ اس کے متعلق تعلیماتِ شرعیہ کیا ہیں؟
(۱) اولیاءِ کرام رحمہم اللہ کو اگرچہ حیاتِ برزخی حاصل ہے، اور علی اختلاف الاقوال وہ زائرین کے کلام و سلام کو بھی سنتے ہیں، مگر اس معاملہ میں اتنا غلو کرنا کہ عوام کے فسادِ عقیدہ کا باعث ہوجائے درست نہیں۔
(۲،۳) جی ہاں! کتبِ تفاسیر واصول میں ان کا فرق اور آیات کی تفصیل موجود ہے، ان کی طرف مراجعت کی جاسکتی ہے۔
جبکہ بعض سورتوں کی ابتداء میں جو اس قسم کے الفاظ ہیں، یہ مقطعات کہلاتے ہیں اور ان کا شمار بھی متشابہات میں ہوتا ہے، علماءِ امت کا اس پر اتفاق ہے کہ ان کا علم سوائے اللہ کے اور کسی کو حاصل نہیں اور حضور ﷺ نے بھی ان کا کوئی خاص مطلب نہیں بتایا ہے۔
ففي تفسير الخازن تحت قوله تعالٰی: یا اهل الکتاب لا تغلوا فی دینکم ولا تقولوا علی اللہ الا الحق۔ الآية: واصل الغلو مجاوزة الجد وهو فی الدین حرام اه (ج1، ص452)
ففی تفسیر الخازن: تحت قوله (وما یعلم تاویله الا اللہ) قیل یجوز ان یکون للقرآن تاویل استاثر اللہ بعلمه ولم یطلع علیه احد من خلقه کعلم قیام الساعة (الی قوله) وعلم حروف المتعلقة (الی ان قال) فالایمان به واجب وحقائق علومه مفوضة الی اللہ تعالیٰ وهذا قول اکثر المفسرین اه (1، ص226) واللہ اعلم بالصواب!