کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید جب قرآن حفظ کر رہا تھا تو اس وقت برائے نام ختم کیا ، یعنی اس وقت نہ سبقی پارہ اور نہ ہی منزل سناتا تھا، جب قرآن کریم ختم ہوگیا تو اس وقت زید کو صرف پہلا پارہ یعنی" الم "پارہ یاد تھا، قرآن کریم یاد نہیں تھا ،لیکن اب زید کبھی کبھار کوشش کرکے کچھ نہ کچھ یاد کر لیتا ہے ، لیکن وہ پھر بھول جاتا ہے ۔
اب معلوم یہ کرنا ہے کہ آیا زید کا اس طرح قرآن کریم پڑھ کر بھول جانے سے گنہگار ہو گا یا نہیں ؟نیز کچھ ایسا طریقہ اور ایسا وظیفہ بتادیں کہ زید اس عظیم نعمت سے محروم نہ ہو جائے ، اور میں اس وقت درسِ نظامی میں مشغول ہوں۔
قرآن کریم کو حفظ یاد کرنا بہت بڑی سعادت اور خوش بختی کی بات ہے، لیکن اس کے بعد قرآن کریم کو بھلا دینا نہ صرف ایک عظیم دولت اور سعادت سے محرومی کی بات ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث ہونے کیوجہ سے موجبِ عذاب بھی ہے، اس لۓ سائل کو چاہیۓ کہ درسِ نظامی کے ساتھ ساتھ باقاعدہ کسی استاذ کی نگرانی میں دوبارہ قرآن کریم کو یاد کرنے کے لۓ کچھ وقت مختص کرے اور اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کرے اور اللہ تعالیٰ سے بھی خوب گڑ گڑا کر مانگے ،گناہوں سے،بدنظری و بدگوئی سے مکمل پرہیز کرے، تا کہ یہ عظیم نعمت کما حقہ اسے حاصل ہوسکے ۔
فی مشكاة المصابيح : عن أبي موسى عن النبي -صلي الله عليه وسلم- قال تعاهدوا القرآن فوالذي نفسي بيده لهو أشد تفصيا من الإبل في عقلها متفق علیه اھ(ص:190)۔
و فيها ایضا : عن سعد بن عبادة قال : قال رسول اللہ -صلی اللہ علیه وسلم- ما من امرء یقرأ القرآن ثم ینساہ الا لقی اللہ یوم القیامة أجذم رواہ ابوداؤد و الدارمي اھ(ص: 191)۔