کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ آج کل جو فلم شائع ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے پوری دنیا میں مسلمانوں نے مظاہرے اور غم و غصے کا اظہار شروع کیا تو اس طرح کی فلمیں مسلمانوں کیلیے دیکھنا شرعی طور پر جائز ہے یا نہیں؟ یہاں پر بعض لوگوں نے جو مسلمان ہیں،اس فلم کو گھروں میں لاکر اسے پوری شوق سے دیکھا، بعد میں انہوں نے اپنے دوستوں اور جان پہچان والے لوگوں کو دیکھنے کی ترغیب دی اور دیتے رہے، تو اس قسم کے لوگوں کے لیے شریعتِ مطہرہ میں کیا حکم ہے؟
تنقیحات:
1۔ جن لوگوں نے اس فلم کو دیکھا بنیادی طور پر دیکھنے کی وجہ کیا تھی؟
2۔ جن لوگوں کو وہ دیکھنے کی ترغیب دے رہے تھے، وہ کس بنیاد پر؟
3۔ یہ لوگ خود کس قسم کے ہیں، دیندار یا بے دین قسم کے؟ شعائرِ دین پر عمل درآمد میں ان کا کیا کردار ہے؟ براہِ کرم ان تنقیحات کا جواب دے کر سوال دوبارہ بھیج دیا جاۓ ان شاء اللہ حکم شرعی سے آگاہ کر دیا جائیگا۔
جوابِ تنقیحات:
ا۔ معلومات کیلۓ دیکھ رہے تھے، کہ آخر وجہ کیا ہےکہ اس کی وجہ سے لوگ مظاہرے کر رہے ہیں؟
2۔ اس لیے کہ یہ فلم تاریخ پر مبنی ہےاور اس کے دیکھنے میں کوئی حرج نہیں، اس فلم میں جس انگریز نے اپنے کو نبی ظاہر کیا ہے، اس کو ہم نبی نہیں مانتے۔
3۔ نمازی ہیں، ظاہری طور پر بے دین نہیں ہیں۔
اس میں تو شبہ نہیں کہ کسی نبی علیہ الصلوۃ و السلام کی تصویر یا مجسمہ وغیرہ بنانا بڑے سخت گناہ کی بات ہے ، جو توہینِ انبیاء کو شامل ہے،جبکہ ان کی شان میں گستاخی اور لب کشائی بھی موجب کفر و ارتداد ہے ، ایسا شخص اگر اپنی اس قبیح حرکت پر ندامت کیساتھ توبہ و استغفار نہ کرے تو بلاشبہ وہ واجب القتل ہے، لیکن عوام الناس کو اس کےقتل کرنے کا ہرگز اجازت نہیں، بلکہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے، کہ ایسے شخص کو قتل یا پھانسی کی سزا دے، تاکہ آئندہ کیلۓ ایسے گھناؤئے امور کا سد باب ہو۔
جبکہ وہ لوگ جنہوں نے محض معلومات کی بناء پر اس فلم کو دیکھا ہے، اگر چہ یہ محض دیکھنے کی وجہ سے دائرۂ اسلام سے خارج تو نہیں ہوئے، مگر یہ دیکھنا بھی اہانت کو شامل ہونے کے ساتھ ساتھ اگر بنانے والے کے فعلِ قبیح پر رضامندی کی علامت ہو ، تو یہ بھی موجبِ کفر و ارتداد بن سکتا ہے ، اس لیے عوام کو چاہیے، کہ وہ ایسی فلموں کے دیکھنے دیکھانے ، یا اس کے ترغیب وغیرہ دینے سے احتراز کریں تا کہ ان کا یہ عمل موجبِ ارتداد ثابت نہ ہو۔
فی الشامية : و حاصله أنه نقل الإجماع على كفر الساب ، ثم نقل عن مالك و من ذكر بعده أنه لا تقبل توبته اھ(4/232)۔
و فیھا ایضا : و قال ابن سحنون المالكي : أجمع المسلمون أن شاتمه كافر، و حكمه القتل، و من شك في عذابه و كفره كفر. اھ(4/232)۔
و فی الدر المختار : و قد صرح في النتف و معين الحكام و شرح الطحاوي و حاوي الزاهدي و غيرها بأن حكمه كالمرتد و لفظ النتف من سب الرسول - صلى الله عليه وسلم - فإنه مرتد و حكمه حكم المرتد و يفعل به ما يفعل بالمرتد انتهى(4/ 234)۔
و فی الشامية : (قوله وقد صرح في النتف إلخ) أقول و رأيت في كتاب الخراج لأبي يوسف ما نصه : و أيما رجل مسلم سب رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أو كذبه أو عابه أو تنقصه فقد كفر بالله تعالى و بانت منه امرأته ، فإن تاب و إلا قتل اھ(4/ 234)۔