مفتی صاحب! میرا سوال یہ ہے کہ میرے شہر کا ایک مسلمان بندہ جس کا نام "رانا خان "وہ انگلینڈ جا کر کرسچن مذہب قبول کر چکا ہے۔"راناخان " کی بیوی "انیکا نورین " جو کہ مسلمان تھی، وہ بھی انگلینڈ جاکر کرسچن مذہب قبول کر چکی ہے ۔ تو کیا وہ دونوںواجب القتل ہیں؟ مہربانی کر کے جلدی جواب عنایت فرمائیں؟
مذکور دونوں میاں بیوی اسلام کو چھوڑکر واقعۃً عیسائی مذہب اختیار کر چکے ہوں، تو اس کی وجہ سے وہ دائرہ اسلام سے خارج اور مرتد ہوچکے ہیں، اگر اسلامی قانون نافذ العمل ہوتا تو ان پر مرتد کے احکام جاری کیے جاتے ۔
فی الدر المختار: الراجع عن دین الإسلام ورکنها إجراء کلمة الکفر علی اللسان بعد الإیمان (إلی قوله) (من ارتد عرض) الحاكم (عليه الإسلام استحبابا) على المذهب لبلوغه الدعوة (وتكشف شبهته) بيان لثمرة العرض (ويحبس) وجوبا وقيل ندبا (ثلاثة أيام) يعرض عليه الإسلام في كل يوم ( الی قوله) فإن أسلم) فيها (وإلا قتل) لحديث «من بدل دينه فاقتلوه ۔اہ- (4 / 225) و اللہ اعلم بالصواب!