ارتداد

عملیات سے علاج کا حکم

فتوی نمبر :
58905
| تاریخ :
1998-02-01
عبادات / عملیات و اذکار / ارتداد

عملیات سے علاج کا حکم

کیا فرماتے ہیں علما ءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ (۱) جو حضرات، اہلِ حدیث جیسی ذہنیت رکھتے ہوئے اور ان سے متاثر ہوکر اپنے مذہبی علماءِ حنفی سے متنفر ہوتے ہوۓ طرح طرح کے اعتراض کرتے ہیں کہ حنفیوں کے پاس قطعی ،قوی دلیل اور حق گو نہیں، سارے ضعیف و کمزور وغیرہ ہیں، پھر مزید کہنا کہ علاج بالدواء و تدبیر وحکمت مسنون ہے لیکن علاج قرآنی آیتوں کے ساتھ جناب مقبول ﷺ کے کسی بھی ارشاد سے ثابت نہیں اور کسی صحابہ کرامؓ کے عمل اور ارشاد سے ثابت نہیں اور تابعین، تبع تابعین کے کسی عمل قول و فعل سے ثابت و جائز نہیں، کیا جو بھی علاج بآیاتِ قرآنیہ ، جنابِ مقبول ﷺ کے قول و فعل و سکوت سے ، دم و تعویذ جائز و مسنون سمجھے، وہ شخص کفر و شرک و بدعت کا مرتکب ہوگا یا کہ نہیں؟ اب عرض یہ ہے کہ اہلِ حدیث مانیں یا نہ مانیں لیکن کیا اس کا تذکرہ و جواز کتبِ احادیث مبارکہ میں ،عملاً قولاً یا فعلاً نہیں آیا؟ اس کا تذکرہ و جواز کسی احادیث اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے کسی واقعہ وغیرہ سے ثابت نہیں؟ از راہِ شفقت جواب وضاحت سے عنایت فرمائیں۔
(۲) جس طرح لوگ علاج بالدواء اور تدبیر وحکمت کو مسنون سمجھتے ہیں تو کیا علاج بہ دم آیاتِ قرانی اور دعائیں رسول اللہ ﷺاور صحابہ کرام اور تابعین تبع تابعین اور ہمارے اکابر علماءِ دیوبند سے ثابت نہیں؟ کیا یہ اکابر روحانی وجسمانی علاج کو مسنون بذریعہ آیات قرآنیہ اور مسنون دعائیں، از حصنِ حصین اور یا وہ کلماتِ خیر بامعنی جو شرک و کفر سے پاک ہوں، جیسے حدیثِ مبارک میں" بسم اللہ شجۃ قرنیۃ ملحۃ بحر" کا ذکر آیا ہے جو ایک منتر ہے کیا وہ ان چیزوں سے علاج کو مسنون نہیں سمجھتے تھے؟ جبکہ ہمارے اکابر علماءِ دیوبند کا کثیر تعداد میں فنِ عملیات میں ان کا بیاض موجود ہے، جیسے سیوطیؒ، اوفاق غزالیؒ، شفاء العلیل از شاہ ولی اللہ، کمالاتِ عزیزی از شاہ عبد العزیز، بیاضِ یعقوبی از نانوتوی، بیاضِ محمدی از شیخ محمد محدث شاہ دہلویؒ، گنجینۂ اسرار از انور شاہ کشمیریؒ، اعمالِ قرانی از حکیم الامت اشرف علی تھانویؒ، مکتوباتِ بیاض از حسین احمد مدنی، آسان عملیات جلد (۱) سے (6-7-8) تک اکابرِ علماءِ دیوبند کا دم تعویذ نقش از آیاتِ قرآنیہ وغیرہ کیا معروف و مشہور عامل نہیں تھے؟ تسلی بخش جواب عنایت فرمائیں۔
(۳) کیا وہ عامل جو کفریہ و شرکیہ الفاظ و کلمات بتانے والا، نذر و نیاز لینے اور اعمالِ صالحہ سے دور اور ہزاروں رقم لینے والا اور دھوکہ فریب دینے والا کیا یہ عامل اچھا اور افضل ہے اور خوشی کی بات ہے یا وہ عامل جو خود صاحب علم اور بزرگانِ دین کا صحبت یافتہ اور علماء حضرات سے تعلق اور بہ ظاہر متعرفین اللہ تعالیٰ، صورت سیرت سے نیک اور غیر محرم غیر پردہ عورتوں کو پابندی اور شرک و بدعت و نذر ونیاز سے منع کرنے والا اور جسمانی علاج کے ساتھ تعلق مع اللہ اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر کسی حد تک مریضوں کو بتانے والا ،اور اب عرض یہ ہے کہ ان دو عاملوں میں سے کون سا افضل اور بہتر اور اچھا ہے کہ جس کے پاس مریض جائیں جس کا اعتقاد اور اعمالِ صالحہ باقی ہوں اور سیّئات دور ہوں؟ جواب عنایت فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

محترم آپ کے ارسال کردہ تینوں سوالات کو بہ غور پڑھا گیا، تینوں کا مقصد قریب قریب ایک ہی ہے اس لئے اس سلسلہ میں ایک مفصل اور اسلوبی جواب لکھا جاتا ہے وہ یہ کہ روایاتِ احادیث اس بارے میں مختلف ہیں، اگر بعض روایات سے عدمِ جواز معلوم ہوتا ہے تو دوسری بعض روایات سے تعویذ لکھنا، دم کرنا اور آیاتِ قرآنیہ اور ادعیۂ ماثورہ کے ذریعہ بیماری کا علاج کرنا بھی آپ ﷺ یا صحابہ کرامؓ سے منقول ہے جو بلاشبہ جائز اور درست ہے؟ ان دونوں قسم کی روایات کو سامنے رکھتے ہوئے حضراتِ فقہاءِ کرام نے ایک ضابطہ اور اصول بیان فرمایا ہے کہ ’’جو دم اور تعویذات آیاتِ قرآنیہ اور ادعیۂ ماثورہ یا ایسے کلمات سے بنائے جائیں جن سے نہ صرف یہ کہ کوئی کفر و شرک لازم نہ آتا ہو بلکہ اس کا وہم تک پیدا نہ ہوتا ہو وہ بلاشبہ جائز اور درست ہیں، جیسا کہ صحیحین میں رسولِ اکرم ﷺ کا اپنے کو معوذتین سے دم کرنا جبکہ ان کا نزول بھی اس واقعہ میں ہوا جب رسول اللہ ﷺ پر ایک یہودی اور اس کی بیٹیوں نے سحر کیا تھا، پھر آپ نے معوذتین کو پڑھا تو سحر کا اثر ختم ہوگیا، اسی طرح صحیحین میں ہی صحابہ کرام کا سورۂ فاتحہ سے سانپ کے ڈسے ہوئے کو جھاڑنا، پھونکنا بھی ثابت ہے اور ابن ماجہ کی ایک روایت میں حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’خیر الدواء القرآن‘‘ ذکر الحافظ ابن القیم فی زاد المعاد وسکت عنہ واحتج بہٖ فہو حسن أو صحیح عندہ۔ نیز ابو داؤد شریف میں حضرت عبد اللہ بن عمروؓ سے تعویذ لکھنا اور اس کو لٹکانا بھی ثابت ہے۔
البتہ شرکیہ کلمات والے دم اور تعویذ یا وہ تعویذ جن کے معانی معلوم نہ ہوں اور وہ منقول بھی نہ ہوں ان کا استعمال ناجائز اور حرام ہے ان کے بنانے سے اور استعمال کرنے سے احتراز لازم ہے چنانچہ سلفِ صالحین اور اکابرِ علماءِ دیوبند حضرات کا یہی معمول رہا ہے، اب اس کے بارے میں کسی شخص کا مطلقاً تعویذ اور دم وغیرہ کے عمل کو ناجائز اور بدعت یا شرک سے تعبیر کرنا قطعاً جائز نہیں سوال میں مذکور روِیہّ سے بھی مکمل احتراز کرنا چاہئے۔
اور سائل نے جن کتابوں کا ذکر کیا ہے یہ اس سلسلہ کی مفید اور مستند کتابیں ہیں جن سے بوقتِ ضرورت فائدہ اُٹھایا جاسکتا ہے، اسی طرح جو عامل متبعِ شریعت ہو اور اپنے دم کرنے یا تعویذ دینے کا معقول وظیفہ لیتا ہو یہ یقینا اس عامل سے بہتر ہے جو متبع شریعت بھی نہ ہو اور اپنے عمل پر گراں قدر وظیفہ بھی لینے والا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

حدثنا موسی ابن اسماعیل نا حماد عن محمد بن اسحاق عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن حدہ ان رسول اﷲ ﷺ کان یعلمہم من الفزع کلمات اعوذ بکلمات اﷲ التّآمۃ من غضبہ وشر عبادہ ومن ہمزات الشیاطین وأن یحضرون وکان عبد اﷲ بن عمرو یعلمہن من عقل من بنیہ ومن لا یعقل کتبہ فاعلقہ علیہ۔ (ابو داؤد شریف: ج۲، ص۱۸۷)
عن انسٍ قال رخص رسول اﷲ ﷺ فی الرقیہ من العین والحمسۃ او الستملۃ۔ (رواہ مسلم)
عن عائشۃؓ قالت أمر النبی ﷺ أن یسترقی من العین متفق علیہ۔ (مشکوٰۃ: ص۳۸۸)
عن عبد اﷲ بن مسعود قال قال رسول اﷲ ﷺ علیکم بالشفائین الغسل والقرآن رواہ ابن ماجہ والبیہقی فی شعب الایمان۔ (ص۳۹۱)
عن علیؓ قال بینا رسول اﷲ ﷺ ذات لیلۃ یصلی فوضع یدہ علی الارض فلاغتہ عقرب فناولہا رسول اﷲ ﷺ بنعلہ فقتلہا فلما انصرف قال لعن اﷲ العقوب ما تدع مصلیا ولا غیرہ أو نبیا وغیرہ ثم دعا بملح ومائٍ فجعلہ فی إناء ثم جعل یصبہ علی اصبعہ حیث لدغتہ ویمسہما ویعوذہا بالمعوذتین رواہما البیہقی فی شعب الایمان۔ (ص۳۹۰)
وفی الہندیۃ : واختلف فی الإسترقاء بالقرآن نحو أن یقرأ علی المریض والملدوغ أو یکتب فی ورق ویعلق أو یکتب فی طست فیغسل ویسقی المریض فاباحہ عطاء و مجاہد وابوقلابہ۔ الخ (ج۵، ص۳۵۶)
وفیہ ایضًا: ولا بأس بتعلیق التعویذ ولکن ینزعہ عند الخلاء والقربان کذا فی الغرائب۔ اھـ (ج۵، ص۳۵۶)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 58905کی تصدیق کریں
0     2168
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • کیا ہرمرتدواجب القتل ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   ارتداد 0
  • مرتد ہونے کی وجہ سے تمام اعمال ضائع ہوجاتے ہیں ؟

    یونیکوڈ   اسکین   ارتداد 0
  • رزق میں برکت کا وظیفہ

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • مرتد عورت کے نکاح کا حکم

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • شادی اور نکاح کیلۓ اسلام قبول کرکے کفر اختیار کرنا

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • وظیفہ براۓ ترقئی کاروبار

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • اسلام چھوڑ کر عیسائیت قبول کرنے والے کی سزا

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • تعویذ، دم، درود وغیرہ کا احادیثِ مبارکہ سے

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • دعا میں درود شریف کو حمد وثناء پر مقدم کرنا

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • تعویذ کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • ذکر و اذکار کی مجلسیں قائم کرنا

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • بائیں ہاتھ پر تسبیحات کرنا

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • درود تاج پڑہنا کیسا ہے؟

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • تعویذ کی شرعی حیثیت اسلام میں

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • وظیفہ براۓ مرض بال خورہ

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • اذکار و اوراد میں گنتی کیلۓ کجھور کی گھٹلیوں کا استعمال

    یونیکوڈ   ارتداد 1
  • مرتد اورگستاخِ رسول کی سزا کیا ہے؟

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • فرض نماز کے بعد کلمہ طبیہ باآواز بلند پڑھنا

    یونیکوڈ   ارتداد 1
  • غیر مسلم سے منتر پڑھواکر دم کروانا

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • عیسائیت اختیار کرنے کے بعد دو بارہ اسلام کی طرف آنا

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • درود و سلام سے کیا مراد ہے جس کا قرآن میں اللہ تعالی نے حکم دیا ہے

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • نجومی کو ہاتھ دکھانے اور قسمت وغیرہ کے پوچھنے کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   ارتداد 1
  • عملیات سے علاج کا حکم

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • جنات کی حقیقت اور ان کا جسمِ انسانی میں حلول

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • استخارہ کون کرے اور کیسے کرے

    یونیکوڈ   ارتداد 0
Related Topics متعلقه موضوعات