کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر جسمانی بیماری ہو یا بھوت بلا وغیرہ کی شکایت ہوجائے تو غیر مسلم کے پاس جو خلافِ توحید منتر پڑھ کر دم کرتا ہے ،جانا اور منتر پڑھواکر دم کروانا جائز ہے یا نہیں؟ اور اس سے بہت سے آدمیوں کو فائدہ بھی ہوتا ہے؟
اور اگر ایک مسلم ہو اور وہ جو تعویذ وغیرہ دیتا ہے تو اس میں صرف توحید ہی کے الفاظ لکھتے ہیں مثلاً یا اللہ، یا رحمن، یا غفور، یا شافی، یا کافی، یا رحیم وغیرہ لیکن اس مسلم میں کچھ افعالِ قبیحہ پائے جاتے ہیں جیسے کبوتر بازی کرنا اور اس بیمار کے کچھ احوال بتانا کہ تیرے اندر یہ بیماری ہے یہ بیماری ہے وغیرہ وغیرہ۔
لیکن اس سے بھی لوگوں کو بہت فائدہ ہوتا ہے تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ تفصیل سے جواب دے کر بندہ کو ممنون فرمائیں۔ شکریہ
ایسی صورت میں کسی مسلمان ماہر عامل سے پڑھنے کیلئے کوئی وظیفہ یا ایسا تعویذ جو کلماتِ شرکیہ وغیرہ سے خالی ہو لینا بلاشبہ جائز اور درست ہے، تاہم ایسے تعویذ کو بھی مؤثر بالذات سمجھنا جائز نہیں اس سے احتراز لازم ہے اور غیر مسلم جو شرکیہ اور کفریہ منتر پڑھ کر دم کرتا ہے اس کے پاس جاکر علاج کروانا جائز نہیں۔
وفی تکملۃ فتح الملہم: قال الحافظ فی الفتح: (اجمع العلماء، علی جواز الرقی عند اجتماع ثلاثۃ شروط: ان یکون بکلام اﷲ تعالٰی او بأسمائہ وصفاتہ، وباللسان العربی أو بما یعرف معناہ من غیرہ، وان یعتقد ان الرقیۃ لا تؤثر بذاتہا، بل بذات اﷲ تعالٰی) الخ۔ (ج۱۰، ص۱۹۵)-
وأما الحادیث التی ورد فیہا النہی عن الرقی، أو الاحادیث التی اثنٰی فیہا علی الذین لا یسترقون فانہا محمولۃ علی رقی الکفار التی تشتمل علی کلمات الشرک أو الاستمداد بغیر اﷲ تعالٰی أو الرقی التی لا یفہم معناہا فإنہا لا یؤمن أن تودی الی الشرک فمنع منہا احتیاطًا۔ اھـ (ج۴، ص۲۹۵)- واﷲ اعلم