کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ تعویذ لینا دینا حرام ہے یا حلال؟ اور کس قسم کے تعویذ حرام اور کس قسم کے حلال ہیں؟
تعویذ لینا، دینا اور ان کا استعمال کرنا از روئے شریعت بلاشبہ جائز اور درست ہے،البتہ اگر تعویذ شرکیہ الفاظ پر مشتمل ہو یا اس میں ایسے الفاظ لکھے جائیں جن کے معانی معلوم نہ ہوں یا تعویذ کو مؤثرِ حقیقی سمجھا جائے تو ایسے تعویذات کو استعمال کرنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے جس سے احتراز لازم ہے جبکہ متعدد احادیث مبارکہ سے صحیح تعویذات کا جواز ثابت ہوتا ہے جیسا کہ مندرجہ ذیل روایات سے واضح ہورہا ہے-
وفی صحیح البخاری: عن عائشۃ رضی اﷲ عنہا ان النبی ﷺ کان ینفث علی نفسہ فی المرض الذی مات فیہ بالمعوذات فلما ثقل کنت انفث علیہ بہنّ وامسح بیدہ نفسہ لبرکتہا فسألت الزہری کیف ینفث قال کان ینفث علی یدیہ ثم یمسح بہما وجہہ۔ اھـ (ج۲، ص۸۵۴)-
وفیہ ایضًا: عن عائشۃ رضی اﷲ عنہا: قالت أمرنی النبی ﷺ أو أمر أن یسترقی من العین۔ اھـ (ج۲، ص۸۵۴)-
وفی صحیح مسلم: أخبرنی أبو الزبیر أنہ سمع جابر بن عبد اﷲ یقول أرخص النبی ﷺ فی رقیۃ الحیۃ لبنی عمرو و قال ابو الزبیر وسمعت جابر بن عبد اﷲ یقول لدغت رجلا مناعقرب ونحن جلوس مع رسول اﷲ ﷺ فقال رجل یا رسول اﷲ ارقی قال من استطاع منکم أن ینفع اخاہ فلیفعل۔ اھـ (ج۲، ص۲۲۳)-
وفی شرح المسلم للنووی: أما الرقیٰ بآیات القرآن وبالأذکار المعروفۃ فلا نہی فیہ بل ہو سنۃ (الٰی قولہ) وقد نقلوا الاجماع علٰی جواز الرقٰی بالآیات وأذکار اﷲ تعالٰی قال المازری جمیع الرقے جائزۃ اذا کانت بکتاب اﷲ تعالٰی أو بذکرہ ومنہی عنہا اذا کانت باللغۃ العجمیۃ او بما لا یدری معناہ لجواز ان یکون فیہ کفر۔ اھـ (ج۲، ص۲۱۹)-
وفی فتح الباری: عن ابن مسعودؓ ان النبی ﷺ کان یکرہ عشر خصال فذکر فیہا الرقے الا بالمعوذات وقال بعد اسطرٍ وقد اجمع العلماء علٰی جواز الرقے عند اجتماع ثلثۃ شروط ان یکون بکلام اﷲ تعالٰی او باسمائہ وصفاتہ وباللسان العربی او بما یعرف معناہ من غیرہ و ان یعتقد ان الرّقیۃ لا تؤثر بذاتہا بل بذات اﷲ تعالٰی وقال بعد اسطرٍ فی حدیث عوف بن مالک اعرضوا علیّ رقاکم لا بأس بالرقی مالم یکن فیہ شرک۔ اھـ (ج۱۰، ص۲۳۹۔۲۴۰)-
وفی المشکوٰۃ: عن انسؓ قال رخّص رسول ﷲ ﷺ فی الرقیۃ من العین والحمۃ والنملۃ۔ اھـ (ص۳۸۷)-
وفی المرقاۃ: ولا یکرہ منہا ما کان علٰی خلاف ذالک کالتعوذ بالقرآن واسماء اﷲ تعالٰی۔ اھـ (ج۸، ص۳۰۲)-
وفی الدر: التمیمۃ المکروہۃ ما کان بغیر العربیۃ۔ اھـ (ج۶، ص۳۶۳)-
وفی الشامیۃ: اقول الذی رأیتہ فی المجتبٰی التمیمۃ المکروہۃ ما کان بغیر القرآن وقیل ہی الخرزۃ التی تعلقہا الجاہلیۃ (الٰی قولہ) ولا بأس بالمعاذات اذا کتب فیہا القرآن او اسماء اﷲ تعالٰی (الٰی قولہ) وإنما تکرہ العوذۃ اذا کانت بغیر لسان العرب ولا یدری معناہ ولعلہ یدخلہ سحرٌ أو کفر أو غیر ذالک وأما ما کان من القرآن او شیء من الدعوات فلا بأس بہ۔ اھـ (ج۶، ص۳۶۳)واﷲ اعلم بالصواب