میرا نام اسماعیل ہے اور میں سابقہ پاکستانی مسلمان ہوں۔میں پانچ سال پہلے عیسائی ہونے کی وجہ سے اسلام اور محمدﷺ کی تعلیمات کو رد کر چکاہوں، اب میں دوبارہ پاکستان آنا چاہتاہوں، اور اپنے مذہب پر عمل کرنا چاہتاہوں، کیا میرے لیے اس بات کی اجازت ہے کہ میں عیسائیت پر عمل پیرا ہوں؟ یا کیا مجھے اپنے عقائد کی وجہ سے سزا دی جائے گی۔
اس میں تو شبہ نہیں کہ حضرت محمدﷺ کی بعثت کے بعد سابقہ تمام ادیان منسوخ ہوچکے ہیں اور اب دنیا وآخرت کی کامیابی حاصل کرنے کیلیے سوائے حضرت محمدﷺ کی اتباع کے کسی دوسرے نبی یا رسول کی اتباع لازم نہیں اور نہ ہی ایسا کرنا جائز ہے اور یہ بھی جاننا چاہیے کہ جو شخص مذہبِ اسلام کو چھوڑ کر کسی دوسرے مذہب کو اختیار کرتاہے، قرآن وسنت کی رو سے وہ مرتد شمار ہوتاہے، جس کے احکام میں تفصیل ہے، تاہم اگر سائل اپنے مذہب عیسائیت قبول کرنے کی وجوہات بیان کردے تو اس پر بھی غور کیا جاسکتاہے، جبکہ اس کے پاکستان آنے میں حرج نہیں، وہ بلاشبہ آسکتاہے اور اُسے چاہیے کہ یہاں آنے کے بعد کسی مستند عالمِ دین کی خدمت میں حاضر ہوکر وہ اپنے شکوک وشبہات کا ازالہ بھی کرے اور اپنی آخرت کی بربادی سے اپنے آپ کو بچائے۔
قال اللہ تعالی في القرآن الکریم: إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ ۔ الآية(آل عمران:۱۹)۔
وقال تعالی: وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِين ۔(آل عمران: ۸۵)۔
وفي الدر المختار: (من ارتد عرض) الحاكم (عليه الإسلام استحبابا) على المذهب لبلوغه الدعوة (وتكشف شبهته) اھ (۴/۲۲۵)۔
وفي الفتاوی الشامية: تحت (قوله: بیان لثمرة العرض) الظاهر أن ثمرة العرض الإسلام والنجاة من القتل، وأما هذا فهو ثمرة التأجيل ثلاثة أيام لأن من انتقل عن الإسلام والعياذ بالله تعالى لا بد له غالبا من شبهة فتكشف له إن أبداها في هذه المدة اھ (۴/۲۲۵)۔
وفي البحر الرائق: (قوله وإسلامه أن يتبرأ عن الأديان كلها أو عما انتقل إليه) أي إسلام المرتد بذلك ومراده أن يتبرأ عن الأديان كلها سوى دين الإسلام (ٳلی قوله) وقال لم أدخل في هذا الدين قط وأنا بريء منه اھ (۵/۱۲۸) واللہ أعلم!