کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل کے دور میں کسی نجومی کو ہاتھ دکھانا یا قسمت کا حال پوچھنا یا ستاروں کے بارے میں پوچھنا، ہاتھ دکھا کر لکیروں سے اس کی زندگی کا حال معلوم کرنا
اور اس جیسے کئی علوم ہیں دین میں، ان علوم کی کیا حیثیت ہے؟ کیا ایسا کرنا صحیح ہے اور کیا اسلام میں اس کی اجازتِ ہے اور ہاتھ دکھانے والے کا کیا حکم ہے؟ اور دیکھنے والے کا بھی؟ براہِ کرم قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
مذکور غرضِ فاسد کے لیے ان علوم کاسیکھنا اور لوگوں کا ان کے پاس جانا ہر دو امور شرعاً ناجائز اور حرام ہیں اور احادیثِ مبارکہ میں نجومی اور کاہن وغیرہ کے پاس جانے پر بہت سخت قسم کی وعیدیں وارد ہوئی ہیں، اس لیے ان کے سیکھنے، ان پر اعتماد کرنے اور ایسے لوگوں کے پاس جانے سے مکمل احتراز لازم ہے۔
ففی حاشية ابن عابدين: تحت (قوله الكاهن قيل كالساحر) في الحديث «من أتى كاهنا أو عرافا فصدقه بما يقول فقد كفر بما أنزل على محمد» (إلی قوله) والحاصل أن الكاهن من يدعي معرفة الغيب بأسباب وهي مختلفة فلذا انقسم إلى أنواع متعددة كالعراف. والرمال والمنجم(إلی قوله)والكل مذموم شرعا، محكوم عليهم وعلى مصدقهم بالكفر. وفي البزازية: يكفر بادعاء علم الغيب وبإتيان الكاهن وتصديقه. (4/ 242) -