کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ’’اللہ اور اس کے فرشتے درود پڑھتے ہیں اور اے ایمان والو تم بھی درود و سلام پڑھو‘‘ اس درود و سلام سے کیا مراد ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ شکریہ
مذکورہ آیت میں درود و سلام سے مراد آپ ﷺ کے لئے سلامتی اور رحمت کی دعاء کرنا ہے اور اس کا طریقۂ مسنونہ نماز میں تشہد کے بعد ،درود شریف کے مخصوص الفاظ کے ساتھ خاص ہے، جبکہ نماز سے باہر کسی وقت اور دن کی تخصیص کے بغیر دیگر الفاظ میں بھی درود و سلام بھیجنا جائز ہے۔
قولہ تعالٰی: ان اﷲ وملائکتہ یصلون علی النبی الخ قال ابن عباسؓ ان اﷲ یرحم النبی والملائکۃ یدعون لہٗ۔ وعن ابن عباسؓ ایضًا یصلون ای یبرکون۔ وقیل الصلوٰۃ من اﷲ الرحمۃ ومن الملائکۃ الاستغفار وسلموا تسلیمًا بتحیۃ السلام وقولوا السلام علیک ایہا النبی ورحمۃ اﷲ وبرکاتہٗ۔ (تفسیر مظہری: ج۷، ص۳۷۴)-
قولہ تعالٰی: ان اﷲ وملائکتہ یصلون علی النبی الخ قال ابو العالیۃ صلوٰۃ اﷲ ثناء ہ علیہی عند الملائکۃ وصلوۃ الملائکۃ الدعاء عن کعب بن عجرۃؓ قیل یا رسول اﷲ امّا السلام علیک فقد عرفناہ فکیف الصلوٰۃ قال قولوا اللّٰہم صل علی محمد وعلٰی اٰل محمد۔ (بخاری شریف: ج۲، ص۷۵۷)-