کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نماز کے بعد جو تسبیحات ہیں ان کو بائیں ہاتھ کے پوروں سے کرنا کیسا ہے؟ بعض افراد اس بات کی تبلیغ کر رہے ہیں کہ یہ حرام ہے۔ کیا ان کا یہ کہنا صحیح ہے؟ اُن کی دلیل یہ ہے کہ بایاں ہاتھ نجس ہے۔ براہِ مہربانی اس مسئلہ کو قرآن وحدیث کی روشنی میں بیان فرماکر ممنون فرمائیں۔
واضح ہو کہ قرآن و حدیث میں تسبیح کے، کثرت سے احکام وارد ہوئے ہیں اور بعض احادیث میں انگلیوں کے پوروں سے تسبیحات شمار کرنے کی ترغیب آئی ہے، مگر اس میں دائیں یا بائیں کی کوئی تعیین نہیں، بلکہ دونوں ہاتھوں کے پورے اس کے عموم میں داخل ہیں اور دونوں ہی ہاتھوں کی انگلیوں کے پوروں کے ذریعے تسبیحات شمار کرنا بلاشبہ جائز ہے، جبکہ اس کے برعکس کسی ایک حدیث یا آیت میں بھی بائیں ہاتھ سے تسبیحات شمار کرنے کی ممانعت وارد نہیں ہوئی۔ لہٰذا بلاوجہ بائیں ہاتھ کو نجس قرار دے کر اس کےذریعہ تسبیحات شمار کرنے کو حرام قرار دینا بلادلیل ہے جو کہ درست نہیں، اس لیے اس طرح کی بے بنیاد باتوں سے احتراز چاہیے۔
ففی مشكاة المصابيح: وعن يسيرة - رضي الله عنها - وكانت من المهاجرات قالت: قال لنا رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: «عليكن بالتسبيح والتهليل والتقديس واعقدن بالأنامل فإنهن مسؤولات مستنطقات ولا تغفلن فتنسين الرحمة» . رواه الترمذي وأبو داود(2/ 716)
وفی مرقاة المفاتيح: (واعقدن) : بكسر القاف أي: اعددن عدد مرات التسبيح وما عطف عليه (بالأنامل) أي: بعقدها أو برءوسها يقال: عقد الشيء بالأنامل عده، وقول ابن حجر: أي عدهن، أو التقدير: اعددن. لا وجه للفرق بينهما. قال الطيبي: حرضهن - صلى الله عليه وسلم - على أن يحصين تلك الكلمات بأناملهن ليحط عنها بذلك ما اجترحته من الذنوب، ويدل على أنهن كن يعرفن عقد الحساب.(إلی قوله) (فإنهن) أي: الأنامل كسائر الأعضاء (مسئولات) أي: يسألن يوم القيامة عما اكتسبن وبأي شيء استعملن اھ(4/ 1606،1605) ـــــــــــــــــــــ واللہ أعلم بالصواب